بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اپنے ایک جاری کردہ ویڈیو پیغام میں کہا کہ گوادر کو چاروں اطراف سے باڑ لگا کر بند کیا جا رہاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گوادر کو باڑ لگا کر بند کرنے کا مقصد بلوچ کی زندگی کو قید میں رکھنا ہے، دنیا میں کوئی ایسی آبادی نہیں جسے چاروں اطراف سے باڑ لگا کر بند کیا گیا ہے اور دنیا میں ایسا کوئی بڑا جیل نہیں جس سے پوری آبادی کو قید رکھا جائے جبکہ آبادی میں آنے جانے والے افراد کی پوچھ گچھ کی جائے لیکن ہمارے ساتھ ایسا ہی ہورہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سارا عمل اس وقت شروع کی جاتی ہے جب چین جیسی ریاست گوادر میں میگا پروجیکٹس اور سی پیک شروع کرتی ہے۔ انکا مقصد گوادر سے یہاں کے مقامی لوگوں کو نکالنے پر مجبور کرنا ہے۔ جب سے یہ میگا پروجیکٹ شروع ہوئے گوادر میں لوگوں کو لاپتہ کیا جارہا ہے، ماہی گیروں کا روزگار چھینا جارہا ہے اور لوگوں کو اپنے زمینوں سے بے دخل کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ایسا انفر اسٹرکچر بنایا گیا ہے کہ ہر سال بارش سے یہاں سیلاب آئے تاکہ لوگ مجبور ہوکر گوادر کو چھوڑ کر جائیں ان تمام سازشوں کے باجود گوادر کے لوگ اپنے زمین کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔