بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سرکردہ رہنما صبغت عبدالحق بلوچ نے کہا ہے کہ گوادر میں ہم اور ہمارے ساتھی جہاں بھی جاتے ہیں تو مشکوک موٹر سائیکل، گاڑیوں میں سوار مشکوک افراد ہمارا پیچھا کررہے ہوتے ہیں، نادیدہ قوتیں کسی بھی وقت ہم اور ہمارے تحریک کے ذمہ داران و کارکنان نقصان دینے کی مسلسل کوشش کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج گوادر میں باڑ کیخلاف پریس کانفرنس کرنے کے لیے بھی بار بار دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ پریس کانفرنس نہ کرنے دینے کیلئے حربے استعمال کیے گئے مگر اس کے باوجود گوادر پریس کلب اور صحافیوں نے صحافتی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے بھرپور شرکت کی۔ ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جمہوری طریقے سے پرامن جدوجہد کرنا ہمارا بنیادی آئینی جمہوری حق ہے، اگر ریاست و نادیدہ قوتوں نے پرامن ریلی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، ریلی کے پہلے یا بعد میں ہم ہمارے کارکنان کو کسی قسم کا کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری ریاست و قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد ہوگی۔ نادیدہ قوتیں ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ سازشی منصوبہ بندیوں کے بارے میں کسی کو ادراک نہ ہو، ہم اور ہمارے ذمہ دار و کارکنان کو اچھی طرح ادراک ہے کہ ہم اور ہمارے ساتھیوں کو ٹیکنیکل طریقے سے راستے سے ہٹانے کیلئے منصوبہ بندی کر رکھی ہے تاکہ اس قسم کے منفی ہتھکنڈوں، دھونس دھمکیوں سے سیاسی کارکناں مرعوب ہوکر خاموشی اختیار کریں اور اپنے قومی ننگ و ناموس، تشخص، بقا کی جدوجہد سے دستبردار ہوں۔
انہوںنے کہا کہ مقتدرہ کے رویوں سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت گوادر میں باڑ لگانے کا کام مکمل کرنے کیلئے ہر حد تک جائے گی مگر وہ یہ بھی جان لیں کہ بلوچ مزاحمتی سیاسی کارکنان ریاستی جبر، کالونیزیشن منصوبہ بندی کو روکنے کیلئے ہر سیاسی، آئینی، جمہوری، قانونی پلیٹ فارم استعمال کرنے سے دریغ نہیں گے۔ بار بار ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ اتحاد اتحاد اتحاد، بلوچ قومی اتفاق اتحاد کے ذریعے بلوچ قومی بقا کے تخفظ کا ضامن ہوگا، اسے ہر دشمن کے شر سے بچائے گا، اسے ہر میدان میں کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔