بلوچستان وپاکستان میں انسانی حقوق صورتحال حوالے امریکی رپورٹ حقائق کا عکاس قرار

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان وپاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اس رپورٹ کو انسانی حقوق کے کارکنان حقائق کا عکاس قرار دے رہے ہیں جس میں بلوچستان وپاکستان میں بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

دوہزار تئیس ہیومن رائٹس پریکٹسز رپورٹ‘‘ امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے تئیس اپریل کو جاری کی گئی تھی۔

اس رپورٹ کے مطابق 2023ء کے دوران انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے پاکستان میں کوئی اہم تبدیلی نہیں آئی اور دو ہزار تئیس میں بھی انسانی حقوق کے حوالے سے کئی خلاف ورزیاں جاری رہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے اس رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے لیکن دوسری طرف اس رپورٹ کو امریکہ کی دوہری پالیسی کا عکاس بھی قرار دیا جارہا ہے اور اس پر تنقید بھی ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، تشدد، اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں، جیل کی صورتحال، ماورائے قانون حراستیں، سیاسی بنیادوں پر لوگوں کی پکڑ دھکڑ، لوگوں کی نجی معاملات میں غیر قانونی مداخلت، کسی شہری کے مبینہ جرم کی پاداش میں اس کے گھر کے افراد کو سزا، جنگ زدہ علاقوں میں اختیارات کا غلط استعمال، آزادی اظہار رائے، میڈیا اور صحافیوں پر قدغنیں اور دیگر کئی موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔

اس سلسلے میں انسانی حقوق کی معروف کارکن اور سابق چیئر پرسن ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان زہرہ یوسف کا کہنا ہے کہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ انتہائی جامع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تقریباً تمام حکومتوں نے اس طرح کی بین الاقوامی رپورٹوں کو نظر انداز کیا ہے یا ان میں پیش کیے گئے حقائق پر سوالات اٹھائے ہیں۔ پاکستان انسانی حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی برادری سے کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا۔‘‘

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے سیکرٹری جنرل ، لاپتہ داکٹر دین محمد بلوچ کی صاحبزادی وجبری گمشدگیوں کے خلاف کام کرنے والی سمی دین بلوچ نے امریکی رپوڑٹ پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ 2023 ء میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل بڑھ گئے ہیں۔ جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہوا ہے اور بلوچ عوام کے انسانی حقوق کو پیروں تلے روندا گیا ہے۔‘‘

سمی دین بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ بین الاقوامی برادری پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے رہی ہے۔ ہم اس رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری جبری گمشدیوں کو ختم کرنے کے لیے پاکستان پر دباؤ بڑھائے گی۔‘‘

ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی سربراہ آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال سے اس رپورٹ کے مندرجات انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے درست ہیں۔ ہمارے ملک میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے اور سیاسی حکومتیں اس مسئلے کو حل کرنے کی بجائے اپنی بے بسی ظاہر کرتی ہیں۔‘‘

آمنہ مسعود جنجوعہ اور زہرہ یوسف دونوں کا ہی یہ خیال ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پیچھے ایک بہت اہم عنصر پاکستان کے جاسوسی اداروں کا یہ تصور ہے کہ وہ کسی بھی آئین و قانون سے ماورا ہیں۔

بلوچستان سے جبری گمشدگی کے لیے کام کرنے والے ماما قدیر کا کہنا ہے کہ وہ اس امریکی رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھی بات ہے کہ امریکہ پاکستان میں انسانی حقوق کی ہونے والی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے رہا ہے لیکن ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری رپورٹس سے اگے نکلے اور اپنے اثرو رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے روکے۔‘‘

Share This Article
Leave a Comment