سرگودھا: خداداد سراج کی بازیابی کیلئے طلبا مظاہرین پر پولیس کا تشدد،متعدد گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستان کے شہر سرگودھا میں لاپتہ بلوچ طالب خداداد سراج کی بازیابی کے لئے احتجاج کرنے والے ساتھی طلباء پر پولیس نے حملہ کرکے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور متعدد کو گرفتار کرلیا۔

پنجاب کے شہر سرگودھا سے 8 مارچ کو جبری گمشدگی کے شکار طالب علم خداداد سراج کی عدم بازیابی کے خلاف دیگر طلباء نے احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا جس پر پنجاب پولیس نے ہلہ بول کر طلباء پر تشدد کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کردیا۔

بلوچ کونسل کے مطابق پولیس نے پہلے دو طلباء گرفتار بھی کیئے تھے جنہیں بعد ازاں رہا کردیا گیا۔

طلباء جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے سرگودھا یونیورسٹی کے طالب علم خدا داد سراج کی بازیابی کے لئے احتجاج کررہے تھیں۔

پولیس نے اس دؤران احتجاج ریلی کو روکتے ہوئے طلباء کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد احتجاج میں شریک دو طلباء کو حراست میں لے لیا جبکہ اس دؤران پولیس اور مظاہرین میں شدید تلخ کلامی کا واقعہ بھی پیش آیا۔

بلوچ طلباء کونس سرگودھا کے مطابق خدا داد سراج کو 19 روز قبل یہیں سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا اس سے قبل ہم جب پریس کانفرنس کرنے سرگودھا پریس کلب پہنچے تو ہمیں پریس کانفرنس سے روکا گیا احتجاجی ریلی نکالنے نہیں دی گئی اس کے باوجود جب ہم نے پرامن احتجاجی ریلی نکالی، جو ہمارا حق ہے۔ تو ہمیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

طلباء نے گرفتار ساتھیوں کی فوری بازیابی اور جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے خدا داد سراج کی منظرعام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بصورت دیگر اپنے احتجاجی مظاہروں میں شدت لاتے ہوئے پورے پنجاب میں احتجاجی مظاہرے کیئے جائینگے۔

Share This Article
Leave a Comment