تربت : نیول ایئر بیس پر بلوچ فدائین کاحملہ ، اسپتال میں ایمرجنسی نافذ

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں پاکستان نیوی کے ایئر بیس پر بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بی ایل اے کے فدائین یونٹ مجید بریگیڈ کے سرمچاروں کی حملے وفائرنگ کے بعد ٹیچنگ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

بی ایل اے کے فدائین گذشتہ شب دس بجے تربت ایئرپورٹ کے قریب واقع پاکستان کی نیول ایئر بیس میں گھسنے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔

اس سلسلے میں بی ایل اے نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک مختصر بیان میں کہا تھا کہ مجید بریگیڈ تربت میں نیول ائیر بیس پر حملہ کرکے حفاظتی حصار توڑ کر اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ حملہ آج شب دس بجے کیا گیا۔

حملے کے ڈیڑھ گھنٹے بعدبی ایل اے نے اپنے بیان میں کہاکہ قابض فوج کیخلاف مجید بریگیڈ کا آپریشن جاری ہے۔

پیر اورمنگل کے درمیانی شب ساڑھے 10بجے کے بعد تربت شہر دھماکوں اور فائرنگ سے گونج اٹھا۔

مقامی انتظامی کے مطابق تربت ایئر پورٹ کے قریب دھماکے اور فائرنگ کے بعد ٹیچنگ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے ۔

سرکاری ذرائع نے دھماکے اور فائرنگ کی تصدیق کی ہے تاہم مزید کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔

رات دس بجے سے صبح تین بجے تک شہر میں وقفہ وقفہ سے دھماکہ اور فائرنگ کی آوزیں جاری رہیں۔

ذرائع کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے ممکنہ کسی قسم کے نقصانات کے پیش نظر ٹیچنگ ہسپتال تربت میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور تمام ڈاکٹروں کو ہنگامی طورپر ہسپتال پہنچنے کاحکم دیدیا گیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کا ہدف نیول ائیر اسٹیشن تربت ہے، پاکستان نیوی کا دوسرا بڑا نیول بیس پی این ایس صدیق اور نیول ائیراسٹیشن تربت ائیرپورٹ سے متصل جنوب کی طرف واقع ہے۔

دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں وقفہ وقفہ سے آتی رہیں تاہم نقصانات کی اندازہ اور دیگر تفصیلات رات گئے معلوم نہ ہوسکیں۔

مکران ڈویژن کے کمشنر سعید عمرانی نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ پیر کی شب ایئرپورٹ کے قریب کیا گیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چار سے 6 حملہ آوروں نے تین مقامات سے ایئرپورٹ کے قریب حملہ کیا لیکن وہ نیول ایئربیس تک نہیں پہنچ سکے۔

کمشنر مکران ڈویژن نے دعویٰ کیا کہ حملہ آوروں نے ایئرپورٹ سائیڈ، فٹ بال سٹیڈیم اور سہراب ڈیم کی طرف سے حملہ کیا تاہم سکیورٹی اہلکار الرٹ تھے اس لیے انھوں نے بروقت جوابی کاروائی کی جس کے نتیجے میں حملہ آور نیول ایئربیس میں داخل نہیں ہو سکے۔

کمشنر سعید عمران نے بتایا کہ حملہ آوروں کی صحیح تعداد اس وقت معلوم ہوسکے گی جب کلیئرنس آپریشن مکمل ہو گا۔

یہ ایک ہفتے کے دوران بی مجید بریگیڈ کی جانب سے بلوچستان میں کیا جانے والا دوسرا بڑا حملہ ہے۔

مقامی ذرائع بتاتے ہیں کہ رات دس بجے کے قریب پہلے دھماکے اور پھر شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا اور تقریباً 45 منٹ تک جاری رہا۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ11بجے کے بعد کچھ دیر کے لیے خاموشی ہوئی لیکن اس کے بعد دو تین زوردار دھماکے ہوئے جو پہلے ہونے والے دھماکوں سے زیادہ شدید تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ہم نے یہ محسوس کیا کہ جیسے یہ ہمارے گھر کے باہر ہوئے ہوں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ رات ایک بجے کے لگ بھگ فائرنگ کی آوازوں کا سلسلہ بند ہو گیا تھا اور ایئرپورٹ اور اس کے نواحی علاقوں میں ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے تھے۔

اس علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے سلسلے میں وقفہ دو گھنٹے کے قریب جاری رہا تاہم تین بجے کے قریب ایئرپورٹ کی جانب سے ایک مرتبہ پھر فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں۔

عسکری حکام کی جانب سے تاحال اس حملے کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں تاہم مکران ڈویژن کے کمشنر کے مطابق علاقے میں ابھی کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور اس کے خاتمے پر ہی صورتحال واضح ہو سکے گی۔

دوسری جانب بی ایل اے نے ایئربیس میں موجود اپنے فدائین کی تین آڈیو زجاری کئے جن میں فدائین بلوچی میں بتارہے تھے کہ ہم کامیابی کے ساتھ اندر پہنچ گئے ہیں اور مقابلہ جاری ہے لیکن اس مرتبہ انہیں کاری ضربیں لگیں گی۔

آڈیو میں ایک فدائی کہہ رہا ہے کہ ہم ابھی زندہ سلامت ہیں اور ہم نے حفاظتی مورچے سنبھال رکھے ہیں اور ایک بکتر بند گاڑی تباہ کردی ہے۔

جبکہ ایک اورآڈیو میں ایک فدائی کہہ رہا ہے کہ جنگ جاری ہے لیکن میں بہت زخمی ہوں ، پانچ چھ گولیاں مجھے لگی ہیں ،ہاتھ پر اور پائوں پر ، ایک پیر ٹوٹ چکا ہے ۔

رات ایک بجکر 40 منٹ پر بی ایل اے کا میڈیا کو جاری کردہ اپنی آخری بیان میں کہنا تھا کہ بلوچ لبریشن آرمی کی مجید بریگیڈ آج شب دس بجے تربت میں نیول ائیر بیس پر حملہ کرکے داخل ہوئی اور اب تک تین گھنٹے گذرنے کے باوجود دشمن کے درجن بھر سے زائد اہلکار ہلاک کرکے فدائین جانفشانی کے ساتھ لڑرہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اس حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی قبول کرتی ہے۔ مزید تفصیلات میڈیا میں جلد شائع کی جائینگی۔

نیول ایر بیس پر تازہ ترین اپ ڈیٹ کے حوالے سے اب تک پاکستان کی عسکری اور مقامی انتظامیہ مکمل خاموش ہیں اور کہا جارہا ہے کہ کلیئرنس آپریشن جاری ہے ۔

جبکہ پاکستانی میڈیا بھی مکمل طور پر خاموش ہے اور بی ایل اے کی واٹس ایپ چینل کو بھی بلاک کیا گیا ہے ۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment