بلوچستان کے علاقے تربت میں کینسر سے ایک نوجوان ہلاک ہوگیا جبکہ ندی میں گرجانے سے ایک نوجوان تا حال لاپتہ ہے ۔دوسری طرف زہری سے فورسز نے ایک نواجوان کوجبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔
پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے زہری میں متعدد گھروں پر چھاپے مارے، خواتین و دیگر کو زد و کوب کیا جبکہ اس دوران ایک نوجوان کو جبری لاپتہ کردیا گیا۔
بتایاجاتاہے کہ چار مارچ کی شب فورسز کے گاڑیوں اور پیدل فورسز کی بڑی تعداد نے زہری کے مختلف علاقوں کو گھیروں میں لیکر گھر گھر تلاشی کی۔
علاقہ مکینوں نے بتایا کہ فورسز نے زہری نورگامہ میں گھروں کی تلاشی لی اس دوران گھروں میں موجود خواتین و بچوں سمیت دیگر افراد کو زدوکوب کیا گیا، الماریاں و دروازے تھوڑے گئے۔
نورگامہ سے ایک نوجوان بلال احمد ولد استاد محمد بخش میراجی کو رات دو بجے کے قریب ان کے گھروں سے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جو تاحال لاپتہ ہے۔
دوسری جانب ضلع کیچ کے مرزکی شہر تربت میں کینسر نے بلوچستان کے ایک اور نوجوان اسپورٹس مین کی زندگی چھین لی۔
کینسر کے موذی مرض کا مقابلہ کرتے ہوئے بالیچہ کے رہائشی 24 سالہ ماجد عرف ماکا چل بسا۔
وہ کلبر کرکٹ کلب بالیچاہ کے ایک آل راؤنڈر کھلاڑی اور عبد الصمد ولد سید کے فرزند تھے،گذشتہ شام کو طبیعت بگڑنے پر انہیں تربت لے جایا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہوسکا۔
پیر کی رات کو وہ تربت کے ایک نجی اسپتال میں اس دار فانی سے کوچ کرگیا۔
دریں اثنا ضلع کیچ کے نہنگ ندی میں ڈوب جانے والے 16سالہ شہزاد واحد کو تیسرے روز بھی تلاش نہیں کیا جاسکا۔
کہا جارہا ہے کہ لواحقین مسلسل 3 روز سے نوجوان کی تلاش میں سرگرداں ہیں مگر بڑے بڑے دعوے کرنے والی پی ڈی ایم اے اور انتظامیہ کہیں نظرنہیں آتے۔
ذرائع کے مطابق تین روز قبل تمپ کے علاقہ میں نہنگ ندی میں بل نگور کاشاپ کے رہائشی نوجوان شہزاد ولد عبدالواحد موٹرسائیکل سمیت ندی میں ڈوب گئے تھے لواحقین کی جانب سے تلاش کے بعد ان کی موٹرسائیکل برآمدہوگئی تاہم لواحقین کی جانب سے 3دنوں کی تلاش کے باوجود شہزاد واحد کا سراغ نہ مل سکا ہے جس کی وجہ سے لواحقین شدید پریشانی اورمشکلات کے شکار ہیں۔