سیلاب میں ڈوبا گوادر | رپورٹ : ریاض بلوچ

0
62

گوادر اور گردونواح میں 27 فروری کی رات چار بجے کے قریب نہ رکنے والے بارشوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو اگلے تین دنوں تک مسلسل جاری رہا۔ پہلے دن نو گھنٹے تک مسلسل بارش ہوا اور پھر وقفے وقفے سے یہ سلسلہ جاری رہا اور اسی طرح پورا شہر پانی میں ڈوب گیا ۔

گوادر شہر کے بیشتر علاقے جس میں تھانہ وارڈ، ملا بند ،ٹی ٹی سی کالونی، فقیر کالونی، نیا آباد، بخشی وارڈ تو مکمل زیر آب آ گئے۔ گھروں میں پانی جمع ہوتا گیا، گلیوں اور چوراہوں میں پانی کا سیلاب بہہ رہا تھا۔ اگلے تین دنوں تک گھروں کے کھڑکیوں تک پانی کھڑا رہا، لوگوں کی ضروریات زندگی کے تمام سامان سیلابی پانی کینذر ہو گئے، جبکہ گرد و نواح کے علاقوں سر بندن پیشکان گنز جیونی پلیری، نگور شریف میں بھی یہی صورت حال رہا ۔

اگلے دن ہی علاقے کے نمائندوں نے اپیل کی کہ فوری ایمرجنسی نافذ کی جائے لیکن ضلعی انتظامیہ اور بلوچستان حکومت نے بالکل توجہ نہیں دی، طوفانی بارشوں سے لوگوں کے گھر اور چار دیواری گرنا شروع ہو گئے۔

اس وقت پوری دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کا سامنا ہے۔ محکمہ موسمیات کے جدید ٹیکنالوجی کی بدولت یہ معلوم ہوتا ہے کہ کب کہاں کس خطے میں کس نوعیت میں بارشیں ممکن ہیں جس کیلئے دنیا بھر میں احتیاطی تدابیر اختیار کیے جاتے ہیں، لوگوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاتا ہے، جہاں ایک طرف دنیا بھر میں اس موسمی رفتار اور تبدیلی کو دیکھ کر انفراسٹرکچر بنائے جاتے ہیں، نئے پالیسیاں مرتب کیے جاتے ہیں، تاکہ لوگوں کیلئے نقصانات کا تخمینہ کم کیا جا سکے، لیکن پاکستان اسکے برعکس بلوچستان میں عوام دشمن پالیسیوں پہ عمل پیرا ہے، میگا سٹی اور نام نہاد میگا پراجیکٹس کی آڑ میں گوادر شہر کے باسیوں کی زندگی کو تباہی پہ لے جایا گیا ہے، گوادر شہر باہر سے آنے والے لوگوں کیلئے سہولیات اور پورٹ کی آڑ میں اس طرح مزین کیا جا رہا ہے کہ وہاں کے قدیم بستیوں میں لوگوں کیلئے جینے کا سہارا نہ رہ جائے، صدیوں سے بسنے والے گوادر کے رہائشی آج ریاستی بلوچ دشمن پالیسیوں کی بدولت آسمان تلے زندگی گزارنے پہ مجبور ہیں جن کے گھروں میں پانی جمع ہو چکا ہے، انکے کھانے، پینے، پہننے اور اوڑھنے کے تمام سہولیات سیلابی پانی کی نذر ہو گئے ہیں ،چار دیواریاں گر گئی ہیں ۔

جب آپ گوادر جائیں گے تو آپکو ایک ہی گوادر میں دو گوادر ملیں گے، ایک وہ گوادر جو وہاں کے مقامی باشندوں کا صدیوں پرانا مسکن ہے دوسرا وہ جس کو پاکستانی ریاست دنیا کو ترقی اور میگا پراجیکٹس کے نام پر دکھانا چاہتا ہے، اسی نام نہاد میگا پراجیکٹس کی تکمیل کیلئے جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں آج گوادر شہر اسی لیے پانی میں ڈوب رہا ہے، پانی کو نکلنے کا رستہ نہیں مل رہا ہے، ریاست نے شہری آبادی کی تحفظ کیلئے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں بنایا ہے بلکہ الٹا قدرتی طوفانوں کے آڑ میں اسطرح کے اقدامات کیے گئے ہیں جس سے لوگ ان قیامت کا مقابلہ کئے بغیر پریشان ہو کر شہر چھوڑسکیں۔

گوادر چونکہ ایک ساحلی شہر ہے، وہاں نمی زیادہ پایا جاتا ہے اور لوگوں کی معیار زندگی کے مطابق وہاں کافی سارے کچے مکانات بھی ہیں، اسی لیے پانی کے کھڑے ہونے سے اور مسلسل بوندا باندی سے بیشتر کچے مکانات تباہ ہوگئے ہیں، لوگوں کا ذریعہ معاش سمندر ہے جسے پہلے سے ہی بلوچ ماھیگیروں کیلئے تنگ کر دیا گیا ہے، دوسری طرف ٹرالنگ مافیا نے سمندری حیاتیات کو غیر ممنوعہ جالوں کے ذریعے تباہ کر دیا ہے، موسمی بدلاؤ اور رفتار نے اس مصیبت کو بلوچ ماھیگیروں کیلئے اور اضافہ کر دیا ہے۔

سیلاب زدہ لوگوں کی سب سے اہم اور بنیادی ضروریات انکے گھروں سے پانی نکالنا، انکو محفوظ مقامات میں ری لوکیٹ کرنا، ان کیلئے کھانے پینے، پہننے اوڑھنے اور رہنے کیلئے سایے کی اشد ضرورت ہے، فی الحال انکو یہ ضروریات مہیا کرنے ہیں ، دنیا بھر میں ایسی آفتوں کے موقع پر ریاستی مشینری سب سے پہلے نظر آتی ہے جو متاثرین کو ریسکیو کر رہے ہوتے ہیں لیکن چونکہ بلوچستان ایک مقبوضہ علاقہ ہے تو یہاں ریاستی مشینریز اور فنڈز صرف بلوچ نسل کشی کیلئے ہی استعمال میں لائے جاتے ہیں، اس سے پہلے بھی بلوچستان میں سیلاب اور زلزلے کی صورت میں قدرتی آفات آتے رہے ہیں تو پاکستانی ریاست نے عالمی دنیا سے کافی سارے ریلیف اور فنڈز وصول کیے لیکن انہیں وہاں کے متاثرین تک کبھی نہیں پہنچایا بلکہ الٹا ان فنڈز کو اپنے دفاعی بجٹ میں ڈال کر بلوچ نسل کشی میں فوجی آپریشن میں لگا دیے ہیں۔

گوادر میں ہونے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کو دیکھنے اور وہاں کے لوگوں کی حال پرسی کیلئے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بھی کل سے گوادر کے دورے پہ ہیں جہاں انہوں نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہی خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ریاست سیلاب زدگان کے نام پہ عالمی برادری سے امداد تو طلب کریں گے وصول بھی کریں گے لیکن انہیں گوادر کے سیلاب متاثرین کو نہیں پہنچائیں گے اسی لیے انہوں نے اپیل کی کلائمیٹ ایکٹیوسٹ اور دیگر انٹرنیشنل امدادی ادارے ازخود گوادر کا دورہ کریں حالات کا جائزہ لیں اور براہ راست لوگوں کی مدد کریں۔

بی وائی سی کے ترجمان نے بھی اپنے ایک اعلامیہ میں انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کے اداروں اور رہنماؤں کو خبردار کیا کہ اگر وہ آج گوادر کے موسمیاتی مسئلے پہ خاموش رہے تو کل گوادر سمیت پورا بلوچستان خطرناک تباہی کی طرف جائے گا ۔انہوں نے اپیل کی کہ بلوچستان میں نام نہاد میگا پراجیکٹس کے سبب پیدا ہونے کلائمیٹ چینج اور غلط انفراسٹرکچر پالیسیوں کے مسئلہ پہ آواز اٹھائیں ۔

گوادر کے مقامی صحافی جاوید بلوچ سے ہم نے گوادر کے موجودہ صورتحال پہ بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ "گوادر سٹی کے بیشتر علاقے زیر آب آگئے ہیں اسکے علاوہ قریبی علاقوں میں بھی یہی صورت حال رہی ہے، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاموں میں لگے ہوئے ہیں، حکومت کی طرف سے اب تک کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے، گوادر کو آفت زدہ تو ضرور قرار دیا گیا ہے لیکن اس سلسلے میں کوئی خاص اقدامات نہیں ہیں، پانی اب تک گھروں میں موجود ہے، لوگوں کے نقصانات کا ازالہ ممکن نہیں ہو سکا ہے "

بی ایس او کے چیئرمین بالاچ قادر بلوچ جو خود گوادر کے رہائشی ہیں اور اس دوران وہاں موجود تھے اس نے بتایا کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ملکر رات گئے پانی میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کیلئے کشتیوں کی مدد لی، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا اگر کوئی این جی اوز نیک نیتی سے آکر امدادی کاموں میں حصہ لے تو ریاستی حکام ضرور انکو تنگ کریں گے اور مختلف بہانوں سے کام کرنے نہیں دیتے، اس سے پہلے بھی بلوچستان میں آنے والے آفات کے وقت ریاست نے غیر سرکاری این جی اوز اور اداروں کے ساتھ یہی رویہ اپنایا ہے "

گوادر میں اس وقت مختلف مقامی فلاحی اور سماجی ادارے سرگرم عمل ہیں، بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی چیپٹر نے اپنے ایک اعلامیہ میں بھی اعلان کیا تھا کہ وہ گوادر میں امدادی کاموں میں حصہ لیں گے انکے مطابق وہاں بی وائی سی گوادر چیپٹر کے ساتھی پہلے سے ہی ریلیف آپریشن میں سرگرم عمل ہیں، بی وائی سی کراچی نے اس ضمن میں فنڈ اکٹھا کرنے کا بھی اعلان کیا اور بلوچ قوم سے اپیل کی کہ وہ گوادر کے سیلاب زدگان کی مدد کریں اور بی وائی سی کے ذمہ داروں سے رابطہ کریں۔

واضح رہے کہ بی وائی سی کراچی اس سے پہلے بھی کراچی ملیر کے مضافاتی علاقوں اور بلوچستان میں سیلاب زدگان کی مدد کیلئے سرگرم عمل رہے ہیں انکے رضاکار کئی دنوں تک کئی گھنٹوں کا فاصلہ طے کرکے ان علاقوں میں پہنچے ہیں جہاں کوئی نہیں پہنچا، متاثرین کو ریسکیو کیا اور انہیں ضروریات زندگی کے سامان فراہم کیے ۔

گوادر کے سیلاب زدگان کی سب سے بڑی امید بلوچ قوم ہیں، وہ چاہے دنیا کے کسی کونے میں بیٹھے ہیں انہیں مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے قوم کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی ، اوست ویلفیئر سوسائٹی سمیت جو فلاحی، سماجی یا سیاسی ادارے وہاں کام کر رہے ہیں انکے ساتھ جڑے رہیں اور با اعتماد ہاتھوں میں اپنا امداد پکڑا دیں تاکہ وہ ضرورت مند اور متاثرہ لوگوں تک پہنچ سکیں۔

٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here