نیدر لینڈ نے پاکستان سے ڈچ رہنما کے قتل کیس میں ملوث 2 پاکستانی شہریوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے ۔
نیدرلینڈز کی ایک عدالت نے بدھ کے روز ایک بیان جاری کرکے پاکستان میں حکام سے کہا ہے کہ وہ 55اور 29 برس کی عمر کے دو مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے انہیں نیدرلینڈ کے حوالے کریں۔
ایک ڈچ عدالت نے پاکستانی حکام سے کہا ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے انہیں نیدرلینڈز کے حوالے کیا جائے۔ ان دونوں پر انتہائی دائیں بازو اور مسلم مخالف رہنما گیرٹ ولڈرز کے قتل پر اکسانے کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ دونوں پاکستانیوں پر شبہ ہے کہ وہ عوامی طور پر لوگوں کو گیرٹ ولڈرز کو انعام کے بدلے قتل کرنے کے لیے اُکسا رہے تھے، تاہم عدالتی بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انہوں نے اکسانے کا یہ کام کیسے انجام دیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد گیرٹ ولڈرز نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، "مجھے امید ہے کہ ان (دو مشتبہ افراد) کو نیدرلینڈز کے حوالے کرکے اور انہیں مجرم قرار دے کر جیل بھیج دیا جائے گا۔”
خیال رہے کہ نومبر 2023 میں ہونے والے انتخابات میں اپنی پارٹی کی کامیابی کے بعد گیرٹ ولڈرز نیدرلینڈ میں نئی حکومت کی قیادت کریں گے۔
استغاثہ نے رازداری کی وجوہات کی بنا پر ان دونوں ملزمان کے نام نہیں بتائے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کا کہنا ہے کہ وہ آزادانہ طورپر ناموں کی تصدیق نہیں کرسکا۔
عدالت کا کہنا ہے کہ اس کیس کی پہلی سماعت دو ستمبر کو ہوگی۔ چونکہ نیدرلینڈ اور پاکستان کے درمیان حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے اس لیے مقدمے کی سماعت کے امکانا ت غیر واضح ہیں۔
ڈچ حکام نے اسلام آباد سے دونو ں مشتبہ افرا د سے پوچھ گچھ اور عدالت میں پیش ہونے کے لیے سمن جاری کرنے میں مدد طلب کی ہے لیکن چونکہ پاکستان کے ساتھ باہمی قانونی معاونت کا کوئی معاہدہ نہیں ہے اس لیے ایسا لگتا ہے کہ دونوں افراد کبھی کٹہرے میں نہیں آئیں گے۔