بلوچستان کے ساحلی شہر اور سی پیک مرکز گوادر میں حالیہ طوفانی بارشوں نے تباہ مچادی ہے ۔
ترقی کے نام پر شہر میں نکاسی آب کا بنیادی سسٹم نہ بنانے پر پورا شہر پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور بارش بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔
شہر بھر کے مکانات، دکانیں، گراؤنڈ، اسکول، اسپتال، سڑکیں اور گلیاں پانی میں ڈوب گئیں۔
گوادر عوام ترقی کے نام پر بند ڈرینیج، ٹوٹی سڑکیں، اونچے ایکسپریس وے اور میرین ڈرائیو کے سائیڈ افیکٹ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں جہاں بارش کے پانی کو نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا اور آبادیاں پانی میں ڈوب رہی ہیں۔
لوگ اپنی مددریسکیو کا کام کر رہے ہیں لیکن مسلسل بارش کی وجہ سے کام میں سست روی کے ساتھ جاری ہے ۔جبکہ جی ڈی اے مکمل طور پر غائب ہے ۔
علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے اور گھروں سے پانی نکالنے کا کام کر رہے ہیں۔
مسلسل تیز بارشوں نے نہ صرف امدادی کام کو متاثر کیا بلکہ مزید نقصانات کے خطرے کی گھنٹی بھی بجادی ہے۔
ہزاروں لوگ اب بھی گھروں میں محصور اور پانی میں رات گزارنے پر مجبور ہیں۔
اسی طرح بلوچستان کے دیگر علاقے ماشکیل اور سرحد کے ملحقہ علاقوں میں مسلسل موسلا دھار بارش نے اہم رکاوٹیں پیدا کی ہیں، 20 سے زائد نجی اور تجارتی گاڑیاں کیچڑ والے راستوں اور سڑکوں میں پھنس گئی ہیں۔
چاغی کی ضلعی انتظامیہ نے صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں کوئی خاندان پھنسا ہوا نہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے پھنسے ہوئے لوگوں اور گاڑیوں دونوں کو نکالنے کے لیے لیویز فورس کو متحرک کر دیا ہے۔
علاوہ ازیں چاغی میں بلوچستان ایران سرحدی علاقے بھگ ایریا میں گزشتہ 2 روز سے متعدد تیل بردار گاڑیاں پھنس چکی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تیل بردار گاڑیوں کے ڈرائیورز اور عملہ بھی پھنس گیا ہے، گزشتہ 2 روز سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔
سرحدی حکام کے مطابق پھنس جانےوالے ڈرائیورز اور ساتھیوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں، پھنس جانے والی گاڑیوں میں تیل بردار مال بردار شامل ہیں، بھگ ایریا میں بذریعہ گاڑی جانا ناممکن ہے، وہاں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے زمین پھسلن ہوچکی ہے۔
خاندانی ذرائع نے بتایا کہ پھنس جانے والے سینکڑوں افراد کی زندگی اور موت کا مسئلہ درپیش ہے، پھنس جانے والے افراد کو نکالنے کے لیے فوری طور پر فضائی ریسکیو آپریشن کیا جائے۔