بولان و کوہلو میں 2 نوجوان لاپتہ ،کئی خواتین وبچے زیر حراست

0
66

بلوچستان کے علاقے بولان میں آج چوتھے روز سے فوجی آپریشن جاری ہے،جہاں مزید خواتین و بچوں کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں جبکہ کوہلو میں فورسز نے 2 نوجوانوں کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے ۔

بولان سے اطلاعات ہیں کہ جاری فوجی جارحیت کے دوران فوج نے بولان سے متصل سبی کے علاقے شابان میں علیان نامی ایک شخص کے گھر کو محاصرے لیکر خواتین و بچوں کو اپنے قید میں رکھا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ فوج نے علیان کے پچیس کے قریب بھیڑ بکریوں پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔

گذشتہ چار روز سے بولان سے متصل سبی، ہرنائی، مچھ میں فوج کی بڑی تعداد موجود ہے اور گن شب و دیگر ہیلی کاپٹروں کی آمد و رفت بھی جاری ہے۔

دریں اثنا بلوچستان کے علاقے کوہلو اور کاہان سے گذشتہ روزفورسز نے 2 نوجوانوں کو حراست میں لے کر جبری طور پرلاپتہ کردیاہے۔

جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے نوجوانوں کی شناخت طارق ولد میر حسین لانگھائی اور عبداللہ شاہ ولد محراب مری کے ناموں سے ہوگئی ۔

ذرائع کے مطابق طارق کو کوہلو شہر سے جبکہ عبداللہ شاہ کو فضل چیل چیک پوسٹ کاہان سے حراست بعد لاپتہ کیاگیاہے۔

بتایا جارہا ہے کہ طارق پیشے کے لحاظ سے درزی ہے۔ اس سے قبل طارق کے بھائی دلوش کو فورسز نے سات سال قبل سبی جاتے ہوئے حراست میں لیا تھا جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں ۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی نے طارق و عبداللہ شاہ کی جبری گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہ کہ طارق ولد میر حسین لانگھانی مری گزشتہ روز کوہلو شہر سے لاپتہ ہوا ہے جبکہ 21 فروری کو فضل چیل چیک پوسٹ پر عبداللہ شاہ مری ولد محراب مری کو بھی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جو کاہان کا رہائشی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here