کمشنر راولپنڈی کا الیکشن میں دھاندلی کا دعویٰ،چیف جسٹس پاکستان کی تردید

0
114

پاکستان میں کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ نے 8 فروری کے الیکشن میں دھاندلی کا دعویٰ کیا ہے جبکہ دوسری طرف چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ اور الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے الزامات کی تردیدکی ہے ۔

الیکشن کمیشن نے کسی بھی قسم کی دھاندلی میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے لیاقت علی چٹھہ کے الزامات کی جلد تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے آج پاکستان بھر میں احتجاج کی کال پر مختلف شہروں میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ کا کہنا تھا کہ راولپنڈی ڈویژن کے تیرہ ایم این اے، جو ستر ستر ہزار کی لیڈ سے ہارے ہوئے تھے، جعلی مہریں لگا کر انہیں جتوا کا بڑا کھلواڑ کیا گیا۔

اس سرکاری افسر کا کہنا تھا کہ احساس جرم کے سبب وہ اپنے عہدے اور سرکاری ملازمت سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کیے جرم کی پاداش میں خود کو پولیس کے حوالے کرتے ہیں، مجھے اس کی بھرپور طریقے سے سزا ملنی چاہیے۔‘‘

دوسری جانب پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے راولپنڈی ڈویژن کے ڈپٹی کمشنر لیاقت علی چٹھہ کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق الزامات کی تردید کردی ہے۔

سنیچر کو سپریم کورٹ کے احاطے میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا لیاقت علی چٹھہ کے الزامات پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’آپ الزام لگا دیں بے بنیاد، نہ کچھ اس میں ذرا سی بھی صداقت ہو، نہ ذرا سی کوئی سچائی ہو، نہ آپ کوئی ثبوت پیش کریں۔‘

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’آپ کچھ بھی الزامات لگا سکتے ہیں، کل مجھ پر کوئی چوری کا الزام لگادیں، کوئی قتل کا الزام لگا دیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’الزام لگانا لوگوں کا حق ہے لیکن ساتھ ساتھ ثبوت بھی دے دیں۔‘

خیال رہے اس وقت اس وقت کمشنر راولپنڈی کے الزامات پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے چیمبر میں مشاورتی اجلاس جاری ہے۔

اس اجلاس میں جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہر من اللہ موجود ہے۔

اس اجلاس میں کمشنر راولپنڈی کے الزامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مشاورت کی جا رہی ہے کہ اس معاملے پر ازخود نوٹس لینا چاہیے یا نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here