بلوچ راجی مچی کےاعلان بعد کریک ڈاؤن میں شدت آگئی ہے،ایمان مزاری

ایڈمن
ایڈمن
1 Min Read

انسانی حقوق کے کارکن اور وکیل ایمان مزاری نے بلوچ راجی مچی پر کریک ڈاؤن اور پروپگنڈہ پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پراپنے ایک ویڈیو بیان میں کہاہے کہ انتظامیہ نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا بلوچ کارکنان کی آواز کو دبانے کیلئے طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے۔بلوچ راجی مچی کیخلاف کریک ڈاؤن اور اس عوامی اجتماع کے خلاف پروپگنڈہ قابل مذمت ہے۔

ایمان مزاری نے کہا ہے کہ راجی مچی کےاعلان کے بعد سے کریک ڈاؤن میں شدت آگئی ہے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے منتظمین اور شرکاء کو فنڈز جمع کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور انہیں دھمکایا جا رہا ہے، متعدد افراد کو حراست میں لینے اور جبری لاپتہ کرنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

https://twitter.com/ImaanZHazir/status/1816759838178967925

ان کا کہنا تھا کہ آواران، ڈی جی خان اور خضدار میں خواتین کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا جب وہ اس اجتماع کے لئے کیمپئین چلا رہے تھیں۔

ایمان مزاری نے پاکستان کے سیاسی و صحافی حضرات سے درخواست کی ہے کہ وہ بلوچ راجی مچی کے خلاف کریک ڈاؤن پر آواز اُٹھائیں اور جبری گمشدگیوں کی مذمت کریں۔

Share This Article
Leave a Comment