بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ کی صدارت میں پارٹی کابینہ کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف ایجنڈے، علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال کے جائزے اور پرحاصل تنقیدی نشست کے بعد کئی اہم فیصلے کیے گئے۔
اس موقع پر چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے بلوچستان کے ناموافق حالات کے تناظر میں پارٹی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا بلوچ گلزمین پر بی این ایم کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں کئی مشکلات کا سامنا ہے لیکن ان مشکلات کے باوجود پارٹی نے نئی حکمت عملی کے تحت مختلف صورتوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھی ہے۔
انھوں نے کہا حالات کیسے بھی ہوں بی این ایم اپنے نظریاتی دوستوں کے ہمراہ آگے بڑھنے کی کوشش کرے گی کیونکہ منظم تحریک ہی پاکستانی درندگی کا مقابلے کرپائے گی اور تحریک کو منظم کرنے کا بہترین طریقہ پارٹی کی مکمل فعالیت ہے ۔
چیئرمین نے کہا بلوچستان میں لوگوں نے پاکستانی انتخابات سے لاتعلقی کا اظہار کرکے بلوچ آزادی پسند قوتوں کا ساتھ دیا۔بلوچ عوام کے دل میں ریاست نے جو دہشت بٹھائی تھی اب وہ ختم ہوچکی ہے۔ تربت میں ملک ناز کی شہادت کے بعد بلوچستان میں جو بیداری پیدا ہوئی اور بلوچ قوم نے جس طرح اس واقعے پر تاریخی ردعمل دیا وہ اب بھی جاری ہے۔
انھوں نے مغربی بلوچستان میں سانحہ شمسر میں شہید ہونے والے بی این ایم کے مرکزی کونسلر شہید چیئرمین دوستا کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا مغربی بلوچستان میں پاکستانی فوج کے حملے کے نتیجے میں ایک مکمل خاندان شہید ہوا۔ یہ بلوچستان کے دردناک صورتحال میں ایک ہولناک خبر تھی۔اس راستے میں شہادتیں بھی ہیں لیکن اس طرح کے نقصانات کا درد کئی زیادہ ہے۔
’’ ریاست پاکستان تسلسل کے ساتھ بلوچوں کو قتل کر رہی ہے اور سانحہ شمسر اس کے جبر اور مظالم میں ایک اور نوعیت کا اضافہ ہے۔‘‘
انھوں نے کہا پاکستان کے جبر سے ہجرت کرنے والے ہزاروں خاندان ہمسایہ ممالک میں بدترین حالات سے دوچار ہیں جہاں انھیں بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین کےتحت مہاجرین کا درجہ حاصل نہیں۔ ہماری خواہش اور کوشش ہے کہ انھیں باقاعدہ مہاجرین کا درجہ دے کر انھیں وہی حقوق دلائے جائیں جو اقوام متحدہ نے طے کیے ہیں اور پوری دنیا میں تسلیم شدہ ہیں۔
بلوچستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے بی این ایم کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا بی این ایم بلوچستان کے قومی ، سیاسی اور انسانی حقوق کے حوالے سے مسلسل ایڈوکیسی کر رہی ہے۔ نیدرلینڈز میں بی این ایم نے بلوچستان میں انسانی حقوق کے حوالے سے تیسری عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران وہاں کمپئن چلائی گئی اور رواں سال مارچ کے مہینے میں یو این سیشن میں بھی جنیوا میں بی این ایم کی طرف سے پروگرامات کیے جائیں گے۔