پیر کے روز واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت پر تنقید کرتے ہوئے اسے چین کی ’کٹھ پتلی‘ قرار دیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ وہ امریکہ کی جانب سے ادارے کو دیے جانے والے فنڈز کم یا ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
انھوں نے وائٹ ہاو¿س میں کہا: ’وہ چین کی کٹھ پتلی ہیں، ان کی ساری توجہ چین پر ہے تاکہ اسے اچھا دکھایا جا سکے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ہر برس عالمی ادارہ صحت کو 450 ملین ڈالر کی امداد دیتا ہے، جو کسی بھی ملک کی طرف سے سب سے زیادہ امداد ہے۔ اس امداد کو کم کرنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے کیونکہ ’ہمارے ساتھ صحیح سلوک نہیں کیا گیا۔‘
امریکی صدر نے کہا ’انھوں (عالمی ادارہ صحت) نے ہمیں بہت زیادہ برے مشورے دیے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ کورونا سے بچاو¿ کے لیے ہائیڈروکسی کولورکوئین کا استعمال کر رہے ہیں۔
ٹرمپ اس سے قبل ملیریا کی دوا سے کورونا وائرس کے علاج کے بارے میں بھی بیان دے چکے ہیں لیکن اس کے بہت ہی کم سائنسی شواہد موجود ہیں کہ اس دوا سے کووڈ 19 کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
پیر کے روز امریکی صدر نے صحافیوں سے کہا: ’میں تقریباً ڈیڑھ ہفتے سے اس کا استعمال کر رہا ہوں اور میں ابھی بھی یہاں ہوں، میں ابھی بھی یہاں ہوں۔‘