بلوچستان حکومت نے ایک بار پھر پبلک ٹرانسپورٹ اور ریل ٹرانسپورٹ کو کھولنے پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے بلوچستان بھر میں فوری طور پر پبلک ٹرانسپورٹ نہ کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔
کھ پتلی وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی زیرصدارت اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں کورونا وائرس سے متعلق امور اور اسپتالوں کی کورونا وائرس کے طبی آلات کی ضروریات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
بلوچستان کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے اجلاس کو مجموعی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بلوچستان میں کورناوائرس کا مقامی پھیلاو¿ 94 فیصد اور باہر سے آنے والوں کی وجہ سے 6 فیصد ہے۔
اجلاس میں روڈ ٹرانسپورٹ اور ریل ٹرانسپورٹ کو کھولنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایس او پیز کے بغیر ٹرانسپورٹ کھلنے سے کورونا وائرس کا پھیلائو دیہاتوں تک پھیل سکتا ہے اس لیے کوئٹہ کے لو گ شہر سے باہر نہ جائیں اور باہر والے کوئٹہ نہ آئیں کیونکہ وائرس کے اثرات کوئٹہ میں زیادہ ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عید میلوں پر مکمل پابندی ہو گی جبکہ عید گاہوں کی تعداد میں اضافہ کر کے رش کو کم کیا جائے گا۔
اجلاس میں گندم کی خریداری کے عمل کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ گندم ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔