انڈیانے پاکستان کی جانب سے انڈین ایجنٹس کے دو پاکستانی شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے سے متعلق دعوئوں کے ردعمل میں کہا ہے کہ ’یہ پاکستان کی جانب سے جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی انڈیا مخالف پروپیگنڈے کو فروغ دینے کی تازہ ترین کوشش ہے۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے جمعرات کی شام یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انڈین ایجنٹس کے ایما پر دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے والے ’کرائے کے قاتلوں‘ اور اُن کے سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے انڈین ایجنٹس کا دو پاکستانی شہریوں کی پاکستانی سرزمین پر ہونے والی ہلاکتوں سے تعلق ثابت ہوتا ہے۔‘
پاکستانی سیکریٹری خارجہ نے تفصیل سے اس بارے میں بھی آگاہ کیا تھا کہ پاکستان میں ہونے والی ان دو وارداتوں کی منصوبہ بندی کیسے کی گئی تھی اور اس میں کون کون ملوث تھا۔
پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے الزام عائد کیا تھا کہ انڈیا نے پاکستان میں جرائم پیشہ افراد اور دہشتگردوں کو بھرتی کیا، ان کو مالی مدد اور حمایت فراہم کی اور انھیں دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کیا۔
تاہم اب اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے انڈیا کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’دنیا جانتی ہے کہ پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی، منظم جرائز اور غیرقانونی بین الاقوامی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ انڈیا اور دیگر ممالک نے پاکستان کو عوامی سطح پر متنبہ کر چکے ہیں کہ وہ اپنے دہشت اور تشدد پھیلانے کے کلچر کا خود نشانہ بنے گا۔‘
انڈیا نے مزید کہا کہ پاکستان نے جو بویا ہے وہی کاٹے گا۔
’اپنے کرتوتوں کا الزام دوسروں کے سر عائد کرنے کانہ تو کوئی جواز ہے اور نہ ہی یہ کوئی حل ہے۔‘