جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کی رہنمائوں کرن کنول اوررابعہ رابی نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لانگ مارچ پر ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ خواتین نے فرزندِ زمین ہونے کا حق ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتھک جدوجہد پر انھیں پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کی خواتین سلام پیش کرتی ہیں۔بلوچ خواتین، بچوں،بوڑھوں پر تشدد اور انھیں پریس کلب تک ایکسیس نہ دینا اور جبراً واپس کوئٹہ بھیجنا اس سارے عمل نے قابض ریاست کی قبضہ گیریت اور دہشت گردی کا پول کھول دیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ خواتین،بچے، بوڑھے نوجوان اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے نکلے ہیں۔لوگوں کو اس طرح اٹھانا اور ماورائے عدالت و قانون ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنا نسل کشی کا ایسا سلسلہ ہے جو دہائیوں سے جاری ہے۔اداروں کی زمہ داری یہ بنتی ہے کہ اگر کوئی شہری گنہگار ہےتو اسے عدالتوں میں پیش کیا جائےلیکن ریاست پاکستان کے ادارے محکوم اقوام کی کھلے عام نسل کشی کر رہے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اپنے پیاروں کے لواحقین کی بازیابی کے لیے اپنی ہی ریاست کے دارالخلافہ کے پریس کلب میں آنے والے معصوم لوگوں بالخصوص نہتی خواتین کو پریس کلب میں بیٹھنے اور احتجاج ریکارڈ کروانے کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو سرا سر ظلم بربریت اور دہشت گردی ہے۔اس بربریت اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف تمام محکوم اقوام کے عوام بلوچوں کے ساتھ ہیں۔