اسلام آباد میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام انٹرنیشنل مظلوم پیپلز کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے نیشنل ڈیمو کریٹک موومنٹ کے رہنما سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ بلوچوں کی تحریک کو روکنے کا یہ نتیجہ نکلا کہ بلوچ اب آتش فشاں بن چکے ہیں اور اس آتش فشاں کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ہم بلوچوں کو ڈی پورٹ کرنا چاہتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ بلوچ غیر ملکی ہیں، اگر بلوچوں نے بھی خود کو غیر ملکی سمجھنا شروع کردیا تو حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جرنیلوں اور ملاؤں نے غداری کی اور کہا کہ ہم آپ کے یہاں بلوچوں پر بمباری کریں گے آپ ہمارے یہاں بلوچوں پر بمباری کریں۔ پاکستان مظلوم اور محکموم لوگوں کا جیل خانہ ہے، یہ کوئی ملک نہیں، یہاں کوئی آزادی نہیں، اس وقت پاکستان کے تین علاقے ایسے ہیں جو سرزمین بے آئین ہیں، پہلے نمبر پر بلوچستان ہے جہاں پر بلوچوں پر مظالم ، ان کے وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ بلوچستان میں 2005 ءسے آپریشن جاری ہے، بلوچ قوم پرستوں سے مذاکرات کیوں نہیں کیے جاتے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسرے نمبر پر فاٹا ہے جس میں مسلح تنظیموں اور فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ فاٹا میں بھی ٹی ٹی پی کو لایا گیا، انہوں نے ہمارے وطن میں ہزاروں لوگوں کو مارا دوسری جانب الٹا عوام پر ہی بمباری کردی جاتی ہے۔ تیسرے نمبر پر گلگت بلتستان ہے جہاں پر فرقہ ورانہ فساد کے بیج بو دیے گئے ہیں۔ بلوچ لانگ مارچ صرف بلوچوں کیلئے نہیں، تمام مظلوموں کیلئے ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کیساتھ تمام مظلوم و محکوم لوگوں کی حمایت ہے۔ بلوچ خواتین، ماؤں، بہنوں اور بچیوں نے ہمارا سر فخر سے بلند کیا ہے۔