پاکستان کے دارلحکومت اسلام آبادمیں بلوچ نسل کشی وجبری گمشدگیوں کیخلاف جاری بلوچ یکجہتی کمیٹی کی دھرنا تحریک کے قائد ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ نے ایرانی بلوچستان میں پاکستان کی جانب سے بلوچ سرمچاروں کے ٹھکانوں پر کارروائی کا دعویٰ اور عام بلوچوں کی شہادت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سلامی و خودمختاری کے نام پربلوچ نسل کشی بدستور بڑھ رہی ہے۔
شول میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ سلامتی اور خودمختاری کے نام پر پاکستان اور ایران دونوں نے عام بلوچ بچوں اور خواتین کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے بہانے بلوچوں پر بلا امتیاز میزائل داغے جاتے ہیں جس سے سرحد کے دونوں جانب بلوچوں کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ جاری بلوچ نسل کشی بدستور بڑھ رہی ہے، جس سے بلوچوں کی زندگیوں کی فلاح و بہبود خطرے میں پڑ گئی ہے۔ پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ سیکورٹی کے نام کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں معصوم بلوچ شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کو اذیت کا شکار بنایا گیا ہے۔