افغانستان میں طالبان کابم حملہ ، 5 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

افغانستان میں امن کے لیے ہونے والے معاہدے کے باوجود پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور حالیہ واقعے میں گردیز شہر میں بم دھماکے سے 5 افراد ہلاک ہوگئے۔

برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مشرقی افغانستان کے شہر گردیز میں عدالت کے قریب دھماکا خیز مواد سے بھرے ٹرک کو دھماکے سے اڑادیا گیا جس کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک ہوئے جبکہ اس کی ذمہ داری طالبان کی جانب سے قبول کرلی گئی۔

خیال رہے کہ یہ حملہ اس واقعے کے 2 روز بعد سامنے آیا جس میں افغانستان میں جنازے اور میٹرنٹی ہوم پر ہونے والے حملوں میں خواتین اور نومولود بچوں سمیت 56 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرائیں کا کہنا تھا کہ ‘گردیز شہر کے گنجان آباد علاقے میں فوجی عدالت کے قریب ایک کار بم دھماکا ہوا، جس میں درجنوں افراد کے ہلاک و زخمی ہونے کا خدشہ ہے’۔

طارق آرائیں نے اس حملے کی ذمہ داری طالبان اور کالعدم لشکر طیبہ کے اتحادی حقانی نیٹ ورک پر لگایا، تاہم یہ گروپ بہت کم حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ادھر پکتیا صوبے جہاں گردیز شہر موجود ہے، وہاں کہ فوجی ترجمان ایمل خان مہمند کا کہنا تھا کہ یہ دھماکا بارودی مواد سے بھرے ٹرک کے ذریعے کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک جبکہ 14 زخمی ہوگئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں افغان دارالحکومت کابل میں میٹرنٹی ہسپتال میں مسلح افراد کے حملے میں نومولود بچوں اور ماو¿ں سمیت 24 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اسی روز مشرقی علاقے ننگاہار میں جنازے میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 32 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔

افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے ان حملوں کی مذمت کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ دفاعی انداز کے بجائے جارحانہ انداز اپنایا جائے۔

علاوہ ازیں طالبان کی جانب سے ان حملوں میں کسی بھی طرح کے ملوث ہونے کی تردید کی گئی تھی لیکن حکومت کی جانب نے گروپ پر الزام لگایا گیا کہ وہ ایسے ماحول کو فروغ دے رہا جس سے دہشت گردی پروان چڑھتی ہے۔

یہاں واضح رہے کہ افغان صدر کی جانب سے فوج کو جارحانہ انداز اپنانے کا کہنے کے بعد طالبان نے بھی کہا تھا کہ وہ افغان سیکیورٹی فورسز کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment