بلوچستان میں سال 2023 میں جاری انسرجنسی ،فوجی آپریشنز ،فورسز و مذہبی شدت پسندانہ کارروائیوں میں 240 افراد ہلاک ہوگئے۔
نیوزایجنسیز کی جانب سےجاری اعدادوشمار کے مطابق بلوچستان میں ہونے والے فوجی آپریشنز،جعلی مقابلوں،بم دھماکوں، فائرنگ ،ٹارگٹ کلنگ، راکٹ حملوں سمیت مذہبی شدت پسندانہ کاروائیوں کے 354 واقعات میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت 240 افراد لقمہ اجل بنے اور سیکڑوں زخمی بھی ہوئے جبکہ املاک کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگرعلاقوں میں بدامنی کے 354 واقعات رونما ہوئے۔
مستونگ میں عید میلادالنبی کے جلوس کے شرکا کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
سال بھر میں مختلف علاقوں میں مزید 4 خود کش حملے، 48 بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ کے 73، فائرنگ کے 62، بارودی سرنگ پھٹنے کے 3 اور 35 راکٹ فائر کرنے کے واقعات ہوئے جن میں مجموعی طورپر سکیورٹی فورسز کے 123اہلکارہلاک اور159 زخمی ہوئے۔
ان واقعات میں 117 شہری بھی ہلاک اور 230 زخمی ہوئے۔