بلوچ قوم انتخابات میں حصہ نہ لے ،پارلیمنٹ مسائل کا حل نہیں ، جمیل بگٹی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

شہید نواب اکبر بگٹی کے صاحبزادے نواب زادہ جمیل اکبر بگٹی نے بلوچ یکجہتی کی احتجاج کرنیوالی خواتین بچوں اور بزرگوں پر اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کے تشدد اور ناروا اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں نہ پہلے ہمارے مسائل کو حل کیا ہے نہ آئندہ کریگی ہمارے عوامی نمائندوں کو اپنی بچیوں پر ہونیوالے مظالم اور تشدد نظر نہیں آرہا انہیں صرف کرسی کے حصول کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی فکر ہے کیونکہ اصل حکمرانی تو مقتدر قوتوں کی ہے جسکا ہمارے سابقہ اراکین پارلیمنٹ بھی برملا اظہار کرچکے ہیںاس لئے انتخابات میں حصہ لینے سے بلوچ قوم کو تحفظ ملے گا بلکہ کچھ لوگوں کو پیٹ بھرنے کا موقع ملے گا۔

”آن لائن” سے بات چیت کرتے ہوئے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کا کہنا تھا کہ ہماری معصوم بچیاں اور بچے اپنے بزرگوں کے ہمراہ تربت سے لانگ مارچ کا آغاز کرکے انصاف کے حصول اور اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے ہزاروں میل کا سفر طے کرکے اسلام آباد پہنچے جہاں پر ریاست کے نمائندوں اور آفیسران نے جس طرح ہماری بچیوں پر مظالم کرتے ہوئے انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر ناروا سلوک روا رکھا جو کسی بھی مہذب معاشرے مذہب میں ایسا برتائو نہیں کیا جاتا کیونکہ ہرشہری کو آئینی قانونی اور جمہوری طور پر پر امن احتجاج کا حق حاصل ہے ۔

انھوں نے کہا کہ بلوچ مظاہرین کوجان بوجھ کر تشدد کا نشانہ بنانا ریاستی اور انتظامی امور چلانے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ پہلے ہمیں پارلیمنٹ نے کونسے انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے مسائل کے حل کو یقینی بنایا ہے گزشتہ 75سالوں سے پنجاب کے بالادست طبقے کے مظالم نا انصافیاں اور ناروا سلوک آج تک بھگت رہے ہیں جو آنیوالی پارلیمنٹ ہمیں ان مسائل اور مشکلات سے چھٹکارہ دلائیگی ۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے نمائندوں کو اپنی بچیوں بچوں اور بزرگوں پر ہونیوالے تشدد اور ظلم نظر نہیں آرہے انہیں صرف اپنی پارلیمنٹ اور اقتدار کی کرسی نظر آرہی ہے انہیں اپنے لوگوں کے ساتھ جو برتاو ہورہا ہے وہ نظر نہیں آرہا کیونکہ ہر دور میں پارلیمنٹ میں نمائندگی ہونے کے باوجود انکی بات نہیں سنی جاتی جبکہ تمام ریاستی اور حکمرانی کے امور مقتدر قوتیں ہی چلاتی ہیں اور آئندہ بھی چلائینگی ۔اس لئے بلوچ قوم پر ہونیوالے مظالم اور ناانصافیوں کے خلاف ملکر کھڑا ہونا ہوگا تاکہ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہو اور انکے اہلخانہ کو انصاف مل سکے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آج ہم اِن مظالم کے خلاف اکٹھے نہیں ہوئے تو آنیوالی نسلیں ہمیں معاف نہیں کرینگی اور جاری ظلم و جبر کی یہ روش برقرار رہے گی۔ اس لئے میری بلوچ قوم سے یہی اپیل ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ نہ لیں کیونکہ اتنے عرصے میں پارلیمنٹ میں رہ کر کوئی شنوائی نہیں ہوگی صرف تقریریں ہوں گی جس سے بلوچ قوم کے ساتھ گزشتہ 75سالوں میں ہونے والے ظلم اور زیادیتیوں کا کوئی ازالہ نہیں ہوسکے گا ،اس لئے بلوچ قوم انتخابات میں حصہ نہ لے ۔

Share This Article
Leave a Comment