تربت میں احتجاجی ریلی ،13 دنوں سے جاری کیمپ کو کل سے کوئٹہ منتقل کرنیکا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں گذشتہ 13 دنوں سے جاری احتجاجی کیمپ کو کل سے کوئٹہ منتقل کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے جو کل صبح لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ہمراہ ریلی کی صورت میں کوئٹہ کی طرف مارچ کرے گا۔

واضع رہے کہ22نومبر کی رات تربت میں سی ٹی ڈی نے ایک جعلی مقابلے میں 4افراد کو قتل کرکے 23 نومبر کو ان کی لاشیں تربت ٹیچنگ ہسپتال میںمنتقل کردیںاور دعویٰ کیا کہ ایک مقابلے میں مذکورہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ان چاروں افراد کی شناخت بطور لاپتہ افراد کے ہوگئی ہے جنہیں مختلف اوقات میں پاکستانی فورسز نے مختلف علاقوں سے حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔

جعلی مقابلے میں قتل کئے گئے ان چار افراد میں بالاچ مولابخش کے اہلخانہ و دیگر سیاسی سماجی حلقے گذشتہ13 دنوں سے تربت میں سراپا حتجاج ہیں ۔جبکہ سیشن کورٹ نے پولیس کو بالاچ کے جعلی مقابلے میں قتل کامقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اب تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

احتجاجی کیمپ کے منتظمین بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنمائوں کے مطابق بدھ کی صبح کوئٹہ کی طرف گاڑیوں کے ذریعے لانگ مارچ کی جائے گی جب کہ لانگ مارچ کے دوران بلوچستان کے مختلف شھروں میں پڑاؤ ڑال کر وہاں ماورائے عدالت و قانون زیر حراست افراد کے قتل، جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افراد کی رجسٹریشن کے حوالے سے لوگوں کو آگاہی دی جائے گی۔

احتجاجی کیمپ کے شرکا نے منگل کو ریلی نکال کر آپسر میں فٹ بال چوک تک مارچ کیا اور اس چوک کو بالاچ مولابخش چوک کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کردیا۔

بالاچ مولابخش چوک پر احتجاجی دھرنا دیا گیا جہاں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے جنرل سیکرٹری سمی دین نے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے لوگوں کو خاموش رہنے کے بجائے آواز اٹھانا چاہیے اور تمام لاپتہ افراد کی فوری رجسٹریشن کی جانب جانا چاہیے جب تک ہم لاپتہ افراد کی رجسٹریشن نہیں کرائیں گے نہ صرف یہ سلسلہ نہیں رکے گا بلکہ ان کے ماورائے عدالت قتل بھی آسان ہوگا کیوں کہ کسی کے پاس جب لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات ہی نہیں ہے تو ان کو جب چاہیں حراست میں قتل کردیں۔

انہوں نے کہاکہ لاپتہ افراد کی رجسٹریشن سے ہم دنیا کو ان کے بارے میں آگاہ کریں گے کہ یہ شخص کون ہے اور کب کیسے لاپتہ کیا گیا ہے اس سے ان کی زندگی کم از کم جعلی مقابلہ میں قتل سے محفوظ رہ سکتی ہے، انہوں نے کہاکہ جن لوگوں کے پیارے سالوں سے لاپتہ ہیں وہ اس کرب اور درد کا اندازہ لگاسکتے ہیں ہم نے پندرہ سالوں میں چوک اور چوراہوں پر انصاف طلب کیا مگر یہ ہماری بے بسی کی انتہا ہے کہ ہم انصاف کا مطالبہ انہی سے کررہے ہیں جو خود لاپتہ کرنے کے زمہ دار ہیں یہاں نہ عدالت آزاد اور نا ہی میڈیا آزاد ہے۔ ہمیں اپنی جنگ خود لڑنا ہے اپنا زبان خود بننا ہے اپنی طاقت اور اتحاد سے عالمی اداروں کو اپنی بات سنانا اور انصاف طلب کرنا ہے۔

دھرنا سے لاپتہ شبیر بلوچ کی بہن سیما بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن کے پیارے برسوں سے لاپتہ ہیں اور انہیں کوئی خبر بھی نہیں کہ ان کی کیا حالت ہے تو ایسا درد اللہ کسی کو نصیب نہ کرے ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے پیارے کہاں اور کس ازہت سے دوچار ہیں ہم پر جبر کے تمام پہاڑ گرائے گئے ہیں ہمیں بے بس بنایا گیا ہے چوک اور چوراہوں پر کھڑے رہنا ہماری مجبوری ہے، لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو چاہیے کہ وہ اپنی طاقت اور توانائی یکجا کریں ورنہ ہم اکیلے رہ کر یونہی دربدر رہیں گے۔

دھرنا سے عالم دین مولانا صبغت اللہ شاہ جی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ اپنی ہی زمین پر غیروں کے ہاتھوں بے کس اور بے بس بنایا گیا ہے، کم ظرفی کی انتہا ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ ہمارے قاتلوں اور اغوا کاروں کی سہولت کار بن گئے ہیں یہ بلوچیت کا نچلا ترین درجہ بلکہ ایسے لوگ بلوچ کہلانے کے قابل ہی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بالاچ بلوچ تاریخ میں مزاحمت اور خود شناسی کا ایک ایسا استعارہ بن گیا ہے جسے مٹانا ممکن ہی نہیں ہے ہر 50 سالوں میں کہیں سے ایک بالاچ اٹھ کر تاریخ کا پھانسا پلٹتا اور مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کرتا ہے اس لیے میرا مشورہ ہے کہ بالاچ کو اب ہاتھ لگانے سے گریز کیا جائے یہ ان کے مستقبل کے لیے ہی بھتر ہے انہوں نے کہا کہ آج سے آپسر کا یہ چوک بالاچ کے نام سے منسوب ہے اور اسے بالاچ چوک کہا جائے۔

انہوں نے ہائی کورٹ بلوچستان کی جانب سے ایس ایچ او تربت کو معطل کرنے کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کبھی ایس ایچ او کو معطل کرنے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ ہم نے شروع دن سے سی ٹی ڈی کے خلاف ایف آئی آر ان کے افسروں کو گرفتار اور سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment