پاکستانی فورسز کی جانب سے جعلی مقابلوں میں لاپتہ افراد کے بہیمانہ قتل اورو جبری گمشدگیوں میں اضافہ سمیت بلوچستان و بلوچوں پر ریاستی جبر کیخلاف تربت میں پہیہ جام جبکہ مکران بھر میں شٹرڈائون ہڑتال ہے۔
ہڑتال کی کال بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے دی گئی ہے۔
تربت شہر میں آج تیرویں روز احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ دھرنے میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین، سول سوسائٹی و دیگر سماجی و سیاسی جماعتوں کے کارکنان شریک ہیں۔
گذشتہ روز بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریاست دھرنے کے مطالبات پر توجہ نہیں دے رہی جبکہ سیاسی افراد جو اس دھرنے میں شرکت کرنا چاہتے ہیں انہیں نشانہ بنا رہی ہے جس کی سب سے بڑی مثال آج منظور پشتین پر ہونے والا حملہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ خدشہ ہے کہ لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں قتل کرنے کا ریاستی پالیسی جاری رہے گی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے سوشل میڈیا پر تربت میں جاری پہیہ جام ہڑتال کی تصاویر شیئرکرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ظلم جبر اور ناانصافیوں پر مبنی پالیسیوں کے خلاف بلوچ قوم اپنا ردعمل دیکھا رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس وقت مکران بھر میں شٹر ڈاؤن اور کیچ میں پہیہ جام ہڑتال کی جا رہی ہے۔ عوام سے شہید فدا احمد چوک پر جاری دھرنا گاہ پہنچنے کی اپیل کرتے ہیں۔
مظاہرین نے کہا کہ آج بروز منگل احتجاجی ریلی بھی نکالی جائے گی۔