بھارت کی پانچ ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، تیلنگانہ اور میزورم میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں مرکز میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی‘ (بی جے پی) کو برتری حاصل ہوئی ہے جب کہ اپوزیشن جماعت کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ووٹوں کی گنتی کے دوران سامنے آنے والے رجحانات کے مطابق بی جے پی مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں حکومت بنانے جا رہی ہے جب کہ کانگریس کو تیلنگانہ میں حکومت بنانے کے لیے درکار نشستیں مل رہی ہیں۔ میزورم میں ووٹوں کی گنتی چار دسمبر کو ہوگی۔
بی جے پی کو مدھیہ پردیش میں 203 نشستوں میں 159 اور کانگریس کو 70 ملتی نظر آرہی ہیں۔
راجستھان میں بی جے پی کو 200 نشستوں میں 113 اور کانگریس کو 72 نشستیں مل رہی ہیں۔
چھتیس گڑھ کی 90 نشستوں میں بی جے پی کو 55 اور کانگریس کو 35 نشستیں ملنے کے واضح امکانات ہیں۔
اسی طرح تیلنگانہ میں 119 نشستوں میں سے کانگریس کو 65 اور بی آر ایس کو 37سیٹیں مل رہی ہیں۔
مدھیہ پردیش میں بی جے پی، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں کانگریس اور تیلنگانہ میں ’بھارتیہ راشٹریہ سمیتی‘ (بی آر ایس) برسرِ اقتدار تھیں۔
یکم نومبر کو پولنگ مکمل ہونے کے بعد نیوز چینلز پر پیش کیے جانے والے ایگزٹ پولز کے نتائج میں راجستھان، چھتیس گڑھ اور تیلنگانہ میں کانگریس اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی جیت کی پیش گوئی کر رہے تھے۔ بعض رپورٹس میں مدھیہ پردیش میں معلق اسمبلی کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
رجحانات کے مطابق بی جے پی نے مدھیہ پردیش میں اپنی حکومت تو بچائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی راجستھان اور چھتیس گڑھ بھی کانگریس سے چھین لیے ہیں۔
ان انتخابات کے بعد ریاستوں کی جو صورتِ حال نظر آ رہی ہے اس کے مطابق 12 ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ تین ریاستوں یعنی کرناٹک، ہماچل پردیش اور تیلنگانہ میں کانگریس کی۔ البتہ کانگریس بہار میں مخلوط حکومت میں شامل ہے۔