بلوچستان میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 2358تک پہنچ گئی

0
64

بلوچستان میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 2358تک پہنچ گئی ہے اور 6 اضلاع کو ایڈز کے حوالے سے ہائی رسک قرار دیا گیا ہے۔

 بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام کے منیجر ڈاکٹر خالد الرحمان قمبرانی نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں ایڈز کے یکم دسمبر کو عالمی دن کے طور پر منانے کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 2358 ہے جبکہ اس مرض کے مریضوں اضافہ ہورہا ہے آنے والے وقت میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد 7 ہزار ہوسکتی ہے اور لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لئے مختلف پروگرام منعقد کئے گئے اور بلوچستان کے 6 اضلاع کو ایڈز کے حوالے سے ہائی رسک قرار دیا گیا ہے اور 3 نئے سینٹروں کا قیام عمل میں لائے ہیں اور آنے والے سال میں مزید 4 نئے سینٹر قائم کئے جائیں گے۔

اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز محکمہ صحت بلوچستان شوکت علی بلوچ، پروگرام منیجر ڈاکٹر داؤ د خان اچکزئی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یکم دسمبر کو ایڈز کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، اور امسال بھی بلوچستان میں اس بیماری سے متعلق آگاہی کی غرض سے سیمینار، واکس اور دوسری سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا ہے ۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال کوئٹہ میں ایچ آئی وی سے متاثرہ رجسٹرڈ افراد کی تعداد 2358 ہے جن میں مرد 1751 ، خواتین 472، بچے 99اورخواجہ سرا 36شامل ہیں۔

اس کے علاوہ تربت میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 339ہے، جن میں مرد 287 ، 41 عورتیں اور بچے 11 ہیں۔ حب میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 44 ہے، مرد35 ،خواتین6 اور 1 بچہ جبکہ 2 خواجہ سرا ہیں۔ نصیرآباد میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 8۔مرد 3،عورت 3 اور 2 بچے ہیں۔ لورالائی میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 30 ہے، مرد 22 ،خواتین6 اور 2 بچے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسروں کی استعمال شدہ سوئی اور سرنجیں ہرگز استعمال نہ کریں، صاف اور نئی سوئی اور سرنجوں کے استعمال کویقینی بنایا جائے۔سوئی چبھ جانے سے ہونے والے زخم سے بچیں کیونکہ اس سے وائرس جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔کان، ناک چھدواتے اور دانتوں کی سرجری کراتے وقت احتیاط سے کام لیں کیونکہ ان کے اوزار جراثیم سے پاک نہیں ہوتے۔بچے کی پیدائش کے دوران صاف ستھری، محفوظ زچگی کی سہولیات کو یقینی بنائیں۔جب تک اشد ضرورت نہ ہو انتقالِ خون نہ کروائیں۔خون کا عطیہ دیتے ہوئے ہمیشہ نئی اور ڈسپوزایبل ٹیوبز اور تھیلیاں استعمال کریں۔جسم پر نقش و نگار(Tattos) بنوانے سے اجتناب کریں۔پیشہ ور خون فروشوں سے خون ہرگز نہ لیںاور جس طرح بلوچستان میں ان سکرینڈ خون، ان سٹریلائزڈ سرنج یا دانت نکلوانے یا سرجری میں استعمال ہونے والے اوزار، عطائی ڈاکٹر جو اپنے اوزار استعمال کرنے میں احتیاط نہیں برتتے کی وجہ سے یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ان تمام طریقوں پر عمل پیرا ہو کر ہم اس مہلک مرض سے کافی حدتک محفوظ رہ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے ایچ آئی وی مہلک اور خطرناک وائرس ہے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے نہ صرف انسانی جان بچائی جاسکتی ہے بلکہ اس بیماری سے دور رہا جاسکتا ہے۔ حجام کی دوکان پر جائیں تو بہت محتاط رہیں۔ ایک بلیڈ سے متعدد افراد حجامت کرواتے ہیں جس میں سے کسی ایک کو ایچ آئی وی تھا تو ممکن ہے کہ دوسرے کو بھی ہوجائےگا۔ عام طور پر لوگ انجکشن لگواتے وقت سرینج تبدیل نہیں کراتے، ایک انجکشن مختلف لوگوں کو لگانے سے بھی ایچ آئی وی ہونے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ جسمانی تعلقات کے علاوہ بھی ایڈز ممکن ہے۔غیر رجسٹرڈ افراد لاعلمی میں ہمارے پاس نہیں آ رہے، اور وائرس کو پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

ڈاکٹر خالد الرحمان قمبرانی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کے علاوہ ژوب، قلعہ عبداللہ، تربت، لورالائی، نصیر آباد اور حب بھی ہائی رسک اضلاع ہیں۔اور کان کنوں کے علاقوں میں بھی ایڈز کا موجب بننے والا وائرس بہت زیادہ ہے۔بلوچستان میں ایڈز کے مفت علاج اور مفت دوائیوں کی دستیابی کے لیے 5مراکز ہیں، جبکہ تمام ضلعی صحت کے مراکز میں ایڈز سکریننگ سینٹر موجود ہیں،موذی مرض سے متعلق عوامی آگاہی کے لیے اقدامات اٹھانا صحیح حکمت عملی ہے۔

تاہم ماہرین اور حکومتی ادارے پاکستان میں ایڈز کے بڑھتے کیسز کو لے کر تشویش میں مبتلا ہیں۔ سماجی کارکن اس بات پر متفق ہیں کہ ہمیں ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں ایچ آئی وی کے شکار افراد کو اپنی بیماری پر لب کشائی کرنے پر انہیں کسی قسم کی پریشانی یا دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایڈز کے بڑھتے ہوئے مریضوں کی وجہ سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لئے معاشرے کے ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اس کے علاوہ جو غیر سرکاری تنظیمیں بلوچستان میں ایڈز کے حوالے سے کام کررہی ہے وہ ان مریضوں کا بھی کھوج لگائے جن کی سکریننگ ہوئی اور ان میں ایچ آئی وی پایا گیا تاکہ ا نہیں علاج کے لئے رجسٹرڈ کرکے نیٹ ورک میں لایا جائے ۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس مرض کا علاج بہت مہنگائی اور ادویات بھی ناپید رہتی ہے۔ لیکن حکومت اپنے دستیاب وسائل کے توسط سے اقدامات اٹھارہی ہے اور گلوبل فنڈز سے ملنے والے فنڈز اور ادویا ت کے ذریعے لوگوں کو علاج کی سہولت دے رہے ہیں۔ عوام میں اس مرض سے بچاؤ کےلئے آگاہی فراہم کررہے ہیں کیونکہ مریض سے نفرت کی بجائے مرض سے نفرت کریں اس اس سال 2023ءکی تھیم ہے کہ کمیونٹیز لیڈ کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here