بلوچستان میں لاپتہ افراد کے جعلی مقابلوں میں قتل اور تربت میں چار روز سے جاری احتجاجی دھرنے کی حمایت ولاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کیلئے حب میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی حب کے زیراہتمام مشترکہ احتجاجی مظاہرے میں خواتین وبچوں کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ مختلف سیاسی و طلباء تنظیموں کے ارکان بھی شریک تھیں۔
احتجاجی مظاہرے کی قیادت وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے سیکر ٹری جنرل سمی دین بلوچ ،وہاب بلوچ اور لاپتہ شبیر بلوچ کی ہمشیرہ سیما بلوچ نے کی ۔جبکہ گوادر سے لاپتہ عظیم دوست و دیگر لاپتہ افراد کے اہلخانہ بھی شریک تھے۔
اس موقع پر مظاہرین نے لاپتا بلوچ نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے بلوچ نسل کش پالیسی کی مذمت کی۔اوربلوچستان میں سی ٹی ڈی کی جانب سے پرتشدد کاروائیوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی فوری بازیابی سمیت عالمی انسانی حقوق کے تنظیموں سے اس ضمن میں تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا ریاست کی جانب سے بلوچ نسل کشی کا سلسلہ جو طویل عرصے سے جاری ہے اسے مختلف ذرائع اور شکلوں میں استعمال کیا جارہا ہے، پہلے بلوچوں کی جبری گمشدگی پھر بلوچ سیاسی کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ اور مارو پھینکو کے پالیسی کے بعد اب فورسز کی جانب سے سی ٹی ڈی نامی ادارہ تشکیل دیکر جعلی مقابلوں میں لاپتہ افراد کو قتل کرنے کا ایک نا رکنے والا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا تربت واقعہ کے بعد سی ٹی ڈی نے جو مؤقف اپنایا وہ پاکستان میں ہر جعلی مقابلے کے بعد انکا مؤقف ہوتا ہے البتہ تربت میں سی ٹی ڈی ہاتھوں قتل افراد پہلے سے زیر حراست اور لاپتہ افراد تھیں یہ ثابت ہوچکا ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ریاست اپنے ایسےہتھکنڈے بلوچستان میں بند کرکے سیاسی آوازوں کو خاموش کرنا بند کریں ایسے کاروائیاں ریاست کے اپنے خلاف عوامی نفرت کا سبب بنیں گے جس کی ذمہ داری ریاست اور اسکے فورسز ادارے ہونگے جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ایسے مظالمانہ کارروائیوں کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کریگی۔
خیال رہے کہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے بانک ئِ چڑھائی میں گذشتہ دنوں 22نومبر کی رات سی ٹی ڈی نے ایک جعلی مقابلے میں 4افراد کو قتل کرکے 23 نومبر کو ان کی لاشیں تربت ٹیچنگ ہسپتال میںمنتقل کردیںاور دعویٰ کیا کہ ایک مقابلے میں مذکورہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ان چاروں افراد کی شناخت بطور لاپتہ افراد کے ہوگئی ہے جنہیں مختلف اوقات میں پاکستانی فورسز نے مختلف علاقوں سے حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔
جعلی مقابلے میں قتل کئے گئے ان چار افراد میں بالاچ مولابخش کے اہلخانہ و دیگر سیاسی سماجی حلقے گذشتہ 4دنوں سے تربت میں سراپا حتجاج ہیں اور شہید فدا چوک پر میت کے ہمراہ دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔جبکہ سیشن کورٹ نے پولیس کو بالاچ کے جعلی مقابلے میں قتل کامقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اب تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔