کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)کے جعلی مقابلے میں بالاچ مولابخش اور دیگر3 نوجوانوں کے قتل کے دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کیچ بار ایسوسی ایشن کے صدر رستم جان گچکی اور ایڈوکیٹ جاڑین بلوچ نے واقعے کی سخت مذمت کی ہے اور پولیس کو لواحقین کی درخواست لینے پر زور دیا ہے۔
ایڈوکیٹ جاڑین بلوچ نے کہا کہ 29 اکتوبر کو گرفتار کیئے گئے بالاچ بلوچ پر 20 نومبر کو 5000 گرام بارودی مواد کا مقدمہ درج کیا گیا اور 21 نومبر کو انہیں اینٹی ٹیررسٹ کورٹ کے جج کے روبرو پیش کرتے ہوئے سی ٹی ڈی نے 10 دن کی ریمانڈ حاصل کی۔
ایڈوکیٹ کے مطابق انہوں نے بالاچ بلوچ کی درخواستِ ضمانت بھی تیار کرلی تھی مگر آج یہ خبر دیدی گئی ہے کہ انہیں دیگر نوجوانوں سمیت شہید کردیا گیا ہے۔
کیچ بار ایسوسی ایشن کے صدر رستم جان گچکی نے کہا ہے کہ مذکورہ واقعہ قابل مذمت ہے، انہوں نے پولیس پر زور دیا ہے کہ وہ لواحقین کا درخواست لیکر سی ٹی ڈی کے خلاف مقدمہ درج کریں۔
انہوں نے کیچ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے لواحقین کو مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔