امریکہ کے شہر نیو یارک کے مشہور علاقے ٹائمز سکوائر میں ایک نیا بل بورڈ لگایا گیا ہے جو کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کے اعداد و شمار بتاتا ہے۔
اسے لگانے والے شخص کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر وقت پر اقدامات کرتے تو اس میں دکھائے جانے والے اتنے لوگوں کی جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔ اس لیے اس کا نام ’ٹرمپ ڈیتھ کلاک‘ رکھا گیا ہے۔
یہ فلم ساز یوجین جیریکی نے بنایا ہے اور اسے ایک عمارت کی چھت پر لگایا گیا ہے۔ یہ عمارت کورونا وائرس کی وجہ سے تاحال کھالی ہے۔
پیر کو اس میں 48 ہزار سے زیادہ اموات دکھائی گئیں جبکہ ملک بھر میں 80 ہزار سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔
اس گھڑی میں کل اموات کا 60 فیصد حصہ دیکھایا جاتا ہے جس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اتنے لوگوں کو مرنے سے بچایا جاسکتا تھا اگر ٹرمپ انتظامیہ سماجی فاصلے اور لاک ڈاو¿ن کے اقدامات پر صحیح طرح عمل درآمد کرواتی۔
یوجین جیریکی نے اس کی وضاحت ایک تحریر میں کی ہے۔
نیو یارک سے تعلق رکھنے والے اس فلم ساز کے مطابق یہ محتاط اندازے پر مبنی ہے جسے امریکہ میں صف اول کے ماہرِ وبائی امراض ڈاکٹر اینتھونی فاو¿چی کے بیان سے منسوب کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر فاو¿چی امریکہ میں کورونا سے نمٹنے کے لیے ایک بااعتماد چہرہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’جلد اقدامات سے جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔‘