بلوچستان کے ضلع نصیرآباد میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مختلف این جی اوز کی جانب سے متاثرین کے لیے ملنے والی امدادی رقوم اور دیگر سامان کی بے ضابطگیوں کے خلاف ضلع کونسل و یونین کونسلروں کے چیئرمین نے احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ضلع نصیر آباد میں سیلاب کی تباہ کاریوں کو ڈیڑھ سال گزر گیاہے ۔
مختلف این جی اوز کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں سروے کاکام مکمل کرنے کے باوجود بے گھر سیلاب متاثرین اپنے گھروں کو آباد نہ ہو سکے اور سیلاب متاثرین کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لیے متاثرہ علاقوں میں کام کرنے والی مختلف این جی اوز کی جانب سے متاثرین کے لیے ملنے والی امداد ی رقم و دیگر سامان میں مبینہ کریشن کے خلاف ضلع کونسل نصیرآباد کے چیئرمین میر فرید الحق لہڑی اور وائس چیئر مین اللہ بچایا نے ضلع یونین کونسلروں سردارزاہ رسول بخش خان عمرانی،سردارزادہ زاہد حسین شر،عبدالروف لہڑی نیاز احمد عمرانی،کونسلر علی شیر بھنگر،محمد شریف لہڑی،میر جان مینگل،سمیت دیگر ممبران کے ہمراہ متعلقہ این جی اوز کے نامناسب روئیے اور من پسند افراد میں امداد تقسیم کرنے کے خلاف ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کام کر نے والی این جی اوز کی جانب سے متاثرین کے لیے ملنے والی امداد ی رقم اور دیگر سامان کریشن نظر ہوگئے ہیں اور علاقے میں کام کرنے والی این جی اوز ضلع کے یونین کونسلروں کو اعتماد میں لیے بغیر کام کررہی ہے اور یونین کونسلروں کے چیئرمین اور متاثرہ یونین کونسلروں کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ من پسند افراد کو سامان و امدادی رقوم تقسیم کی جارہی ہے مختلف این جی اوز کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سروئے کا کام مکمل ہونے کے باوجود بے گھر سیلاب متاثرین ڈیرھ سال گزرنے کے بعد بھی اپنے گھروں میں آباد نہ ہوسکے بدلتے موسم نے سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیاہے اگر متاثرہ علاقوں میں یونین کونسلوں کی نشاندھی اور اصل سیلاب متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کو یقینی نہیں بنایا گیا تو ان کے خلاف سخت احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔