بلوچستان کے نگراں حکومت نے بلوچستان میں قائم تمام جوڈیشل لاک اپ پولیس سے لیکر محکمہ جیل خانہ جات کو دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔
تمام اٹھارہ جوڈیشنل لاک میں محکمہ جیل کا عملہ تعینات کیا جائے گا ،کوئٹہ اور گڈانی جیلوں میں منشیات بحالی مراکز بھی قائم کئے جائیں گے۔
یہ بات آئی جی جیل خانہ جات شجاع الدین کاسی نے نجی ٹی وی سے بات چیت کر تے ہوئے کہی۔
شجاع الدین کاسی نے کہا کہ چمن جوڈیشنل لاک اپ سے قیدیوں کے فرار کے واقعہ کے بعد بلوچستان حکومت نے بلوچستان کے تمام 18جوڈیشنل لاک پولیس سے لیکر محکمہ جیل کو دینے کا فیصلہ کیا ہے،محکمہ جیل ان لاک اپ پر اپنا عملہ تعینات کرے گا۔
آئی جی جیل نے بتایا کہ بلوچستان میں بارہ جیل اور اٹھارہ جوڈیشنل لاک اپ ہیں جہاں قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ محکمہ جیل نے سنٹرل جیل مچ میں قیدیوں کو مصروف رکھنے کیلئے کپڑا بنانے کی فیکٹری بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مچ جیل کی فیکٹری چودہ سال قبل قیدیوں نے ہنگامہ آرائی کے دوران جلا دی تھی۔
شجاع الدین کاسی نے بتایا کہ کوئٹہ اور گڈانی جیلوں میں منشیات کے عادی ملزمان کیلئے منشیات بحالی مراکز بھی قائم کئے جارہے ہیں۔