پاکستانی سیاستدان اور خود کو پاکستانی فوج کے گیٹ نمبر 4 کا پیداور قرار دینے والے نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد جو ایک عرصے سے فوج کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد لاپتہ تھے، گذشتہ شب اچانک سما ٹی وی پرنمودار ہوئے اور انٹرویو دیا ۔
انھوں نےکہا کہ وہ دراصل چِلا کاٹ رہے تھے اس لیے منظر عام سے غائب تھا اور اس دوران انھیں مذہب سے قریب ہونے اور متعدد چیزوں کے بارے میں سوچنے کا موقع ملا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل عثمان ڈار اور صداقت عباسی کے انٹرویو بھی ایسے ہی اچانک ان کی روپوشی کے بعد نجی ٹی وی چینلز پر نشر کیے جا چکے ہیں۔
شیخ رشید نے کہا کہ ’جب نو مئی ہوا تو اس سے اگلے ہی دن میں نے ان واقعات کی مذمت کی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ عمران خان کو ہمیشہ کہتے تھے کہ ’اسٹیبلشمنٹ سے ہماری لڑائی بنتی نہیں ہے اور انھیں کہا تھا کہ فوج سے بنا کر رکھنی چاہیے۔‘
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے بتایا کہ ’میں نے دومرتبہ چیئرمین پی ٹی آئی کو کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو مذاکراتی عمل میں شامل کرلیں مگر انہوں نے منع کیا۔‘
شیخ رشید نے مزید کہا کہ ’سیاستدان کو کسی فوجی افسر کا نام نہیں لینا چاہیے، یہ ملک اداروں کے بغیر نہیں چل سکتا، سیاست دانوں اور اداروں کو مل کر چلنا چاہیے۔
’جب سیاست دانوں اور اداروں کی لڑائی ہوتی ہے تو ہمیشہ ادارے ہی جیتتے ہیں۔‘
شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی ضدی سیاستدان ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کی طرف سے تین افراد جو فوج سے مذاکرات کر رہے تھے تینوں نے اپنی جماعت بنا لی۔
صحافی و تجزیہ کار اسد علی طور کے مطابق خفیہ ایجنسیز کے اہلکارشیخ رشید کو زبردستی سما ٹی وی کے اسٹوڈیو لے لائے اور اینکر منیب فارو ق سمیت شیخ رشید کوالگ الگ پرچیاں تھمائیں کہ اس میں جو لکھا ہواہے وہی باتیں کرنی ہیں۔ جس پر شیخ رشید نے کہا کہ میں ایسا نہیں کرسکتا تو ایک اہلکارنے آگے بڑکر ان کے گال پرتھپڑ مارا جس پر اسٹوڈیو میں موجود سب لوگ سکتے میں آگئے۔