جان کو خطرہ ہے ،لانگ مارچ سے روکا جارہا ہے ، اختر مینگل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ میری جان کو خطرہ ہے ہماری پارٹی کی جانب سے لانگ مارچ کا اعلان ہوتے ہیبلوچستان حکومت نے مختلف اضلاع میں دفعہ 144نافذ کردیا ہے تاکہ ہمارے راستے کو روکا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اور شفیق الرحمن مینگل دونوں ایک ہی انسٹیٹیوٹ کے تربیت یافتہ ہیں۔ ایپکس کمیٹی کے بلوچستان اجلاس میں وڈھ میں شفیق مینگل کو ریلیف دینے کی مشاورت ہوئی جبکہ سرفراز بگٹی ڈیرہ بگٹی میں امن لشکر کے نام سے تنظیم کی سربراہی کرتے آرہے ہیں۔

سردار اختر مینگل نے مزید کہا کہ میں اس وقت اپنے گھر وڈھ سے آپ سے مخاطب ہوں ۔میرے گھر سے 50گز کے فاصلے پر راکٹ گرے ہیں، یہ پہلی مرتبہ نہیںہوا ہے بلکہ 2004سے یہ سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں وڈھ کے علاوہ باقی قبائلی جھگڑیں ہیں جہاں کافی تعداد میں لوگ دونوں جانب قتل ہوئے ہیں لیکن اپیکس کمیٹی کے بلوچستان اجلاس میں صرف وڈھ زیر بحث آیا اور یہ طے ہوا ہے کہ شفیق مینگل کو ہر صورت حفاظت کو یقینی بنا نا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعلی بلوچستان سردار اختر مینگل نے کہا کہ جہاں تک نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے الزام کا تعلق ہے یہ تو پورے بلوچستان کے عوام کو معلوم ہے کہ موصوف ڈیرہ بگٹی میں امن لشکر کے نام سے تنظیم چلا رہے ہیں جس میں اب تک سینکڑوں بے گناہ لوگوںکو قتل کرچکے ہیں ۔

ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ جہاں تک نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی جانب سے بلوچستان میں لاپتہ افراد کی تعداد پچاس ظاہر کی گئی ہے تو اس حوالے سے عرض ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت میں 450لاپتہ افراد بازیاب ہوکر اپنے گھروں تک پہنچ چکے ہیں۔ ظاہر ہے نگران وزیراعظم بھی وہی بات کریں گے جو ادارے ان کو کہیں گے ۔

ایک اور سوال کے جواب میںکہا کہ مجھے اس بات کی سزا دی جارہی ہے کیونکہ میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر جو فہرست مرتب کی اس سے اداروں کو تکلیف پہنچی ۔اس لیے میری مخالف کی جارہی ہے جب ہم نے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے تو حکومت نے مختلف اضلاع میں دفعہ 144نافذ کیا ہے تاکہ ہمارے لانگ مارچ کو روکا جاسکے۔

Share This Article
Leave a Comment