بلوچستان کے علاقے وڈھ اورمنگچر میں بم پھٹنے اورفائرنگ سے بچہ سمیت 2 افرادہلاک ہوگئے جبکہ مستونگ سے پاکستانی فورسز ہاتھوں ایک نوجوان جبری گمشدگی کاشکارہوگیا۔
وڈھ میں دستی بم پھٹنے سے ایک بچہ ہلاک اور 7 بچے زخمی ہوگئے جنہیںزخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
ڈی ایس پی وڈھ کے مطابق منگل کے روز خضدار کےقریب یہ واقعہ وڈھ کے علاقے زرچین میں پیش آیا جہاں مدرسے کے بچے دستی بم کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ اس دوران ایک زور دار دھماکا ہوا۔
واقعے میں زخمی ہونے والے 7 بچوں کو وڈھ کے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا البتہ دو شدید زخمیوں کو خضدار منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں ایک بچہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہو ئے چل بسا۔
دوسری جانب خالق آباد منگچر میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
لیویز ذرائع کے مطابق خالق آباد منگچر کلی آدم زئی کے قریب فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔
ہلاک ہونے والے شخص کی شنانخت محمد ایوب ولد عطاء محمد محمد حسنی کے نام سے ہوگئی ۔
واقعہ کوپرانی دشمنی کا شاخسانہ بتایا جارہا ہے ۔
دریں اثناگزشتہ دنوں منگچر کا ایک رہائشی نوجوان جبری لاپتہ ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق نوجوان موٹرسائیکل پر دارالحکومت کوئٹہ سے منگچر جارہا تھا کہ مستونگ کے علاقے میں نوجوان سے لواحقین کا آخری مرتبہ موبائل فون پر رابطہ ہوا جس نے گھبراہٹ میں اپنے اہلخانہ سے رابطہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوستوں کے ساتھ ہوں اور اس کے ساتھ ہی فون کٹ گیا تھا، بعد ازاں نوجوان کا موبائل فون مسلسل بند رہا۔
جس کے بعد سے نوجوان موٹرسائیکل سمیت لاپتہ ہے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نوجوان کوسیکورٹی فورسز نے جبری گمشدگی کا شکار بنایا ہے ۔