بھارت کی پارلیمان نئی عمارت میں منتقل ہوگئی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read
فوٹو : روئٹرز

بھارت میں پارلیمنٹ کی کارروائی منگل سے نئی عمارت میں ہوگئی اور اسی کے ساتھ 96 برس قبل بننے والی عمارت کو دیگر پارلیمانی امور کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

بھارت اور پاکستان کے قیام سے لگ بھگ دو دہائی قبل برطانوی دور میں انڈیا کی پارلیمنٹ کی عمارت تعمیر کی گئی تھی۔یہ عمارت بھارت کی موجودہ پارلیمانی کارروائی کی ضروریات کو پورا نہیں کر پا رہی تھی۔

بھارت کے نشریاتی ادارے ’ این ڈی ٹی وی‘ کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کی قدیم تاریخی عمارت برطانوی آرکیٹیکٹ سسر ایڈورڈ لوٹینز اور ہاربرٹ بیکر نے ڈیزائن کی تھی۔اس عمارت نے نہ صرف ملک کی آزادی کی پوری تحریک دیکھی بلکہ بھارت کے قیام کے بعد ملک کا آئین بھی اسی عمارت میں بنا۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کی پرانی عمارت میں پیر کو ’لوک سبھا‘ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس عمارت کی ہر اینٹ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ارکانِ پارلیمنٹ نئی عمارت میں نئی امیدوں اور اعتماد سے داخل ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت کا پارلیمنٹ کی پرانی عمارت منہدم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ اس میں کچھ تبدیلیاں کی جائیں گی جس کے بعد پرانی عمارت کو دیگر پارلیمانی امور کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

بعض اطلاعات کے مطابق پرانی عمارت میں میوزیم بھی بنایا جا سکتا ہے۔ البتہ اس حوالے سے ابھی کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے 10 دسمبر 2020 کو نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا تھا اور رواں برس انہوں نے اس کا افتتاح بھی کیا۔ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر پر آٹھ ارب 62 کروڑ بھارتی روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں ایوانِ زیریں (لوک سبھا) کی 888 نشستیں جب کہ ایوانِ بالا (راجیہ سبھا) کی 300 نشستیں ہیں۔

TAGGED:
Share This Article
Leave a Comment