سنگر کے پْر کٹھن گیارہ سال مکمل

ایڈمن
ایڈمن
12 Min Read

اداریہ

کہا جاتا ہے کہ ایک واضح سائنسی انقلابی نظریے اور علم وشعور سے آراستہ ایک چھوٹی سی اقلیت بہت بڑی اکثریت کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ تبدیلی شعور اور فکروخیال سے تعلق رکھتی ہے جبکہ انسانی اعمال ایک خاص شعور اور ذہنی سرگرمی کا ہی نتیجہ ہوتے ہیں، لہٰذا شعوری و فکری تبدیلی سماجی تبدیلی کی بنیاد ہے۔اسی لئے کسی بھی سیاسی جدوجہد کے ذرائع میں نظریاتی وشعوری جدوجہد انتہائی اہمیت رکھتی ہے، اس ضمن میں ابلاغ کا شعبہ ایک موثر محاذ قرار دیا جاتا ہے، جہاں نہ صرف تبدیلی، آزادی اور انقلاب کے نظریات کا پرچار کیا جاتا ہے بلکہ مخالف منفی قوتوں کے لغو پروپیگنڈے اور عوام دشمن نظریات و فریب کاریوں کا موثر طور پر جواب بھی دیا جاتا ہے، اسی لئے کسی بھی تحریک کی کامیابی کیلئے ابلاغ کے شعبے کو فعال بنانے پر بے پناہ زور دیا گیا ہے۔

دنیا کے موجودہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں ذرائع ابلاغ کی اہمیت دو چند ہو چکی ہے،کیونکہ ایک وسیع و عریض دنیا کو گلوبل ولیج میں بدلنے میں اطلاعاتی ترقی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور یہ اسی ترقی کا نتیجہ ہے کہ اب دنیا کے کسی بھی مقام پر ہونے والے کسی واقعہ کو چھپانا ممکن نہیں رہا ہے،یہی وجہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کے ذرائع کی آج جتنی ترقی ہوئی ہے اسی قدر ریاستی وبالادست قوتوں کی جانب سے اس پر پابندیوں اور بندشوں کا عمل بھی بڑھ گیا ہے، جس کا مظاہرہ دنیا کے مختلف خطوں میں ذرائع ابلاغ کے ذرائع اور اس سے وابستہ افراد کیخلاف قتل و غارت گری سمیت مختلف غیر انسانی اور غیر جمہوری اقدامات کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے،جس کی سب سے زیادہ شدت ان خطوں میں نظر آتی ہے جہاں نو آبادیاتی و سرمایہ دارانہ جبرو استحصال کیخلاف محکوم اقوام و مظلوم عوام الناس کی تحریکات کا ابھار پایا جاتا ہے۔

ذرائع ابلاغ جن میں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا قابل ذکر ہیں کئی سمتوں اور پہلوؤں سے تحریک کو منظم بناتے ہیں،جن میں نظریاتی تربیت و تعلیم کے علاوہ عوام اور تحریک کے مابین رشتوں کو باہم مضبوط ومربوط بنانا بھی شامل ہے، اسی لئے کسی بھی تنظیم و تحریک کیلئے اخبار و رسائل اور جریدوں کا اجراء ہر دور میں نا گزیر رہا ہے۔سوویت انقلاب کے معمار ولادی میر لینن کسی انقلابی تحریک کیلئے اخبار سمیت ذرائع ابلاغ کی اہمیت پر کافی زور دیتے ہوئے اسے تحریک کا اہم ستون اور اوزار قرار دیتے رہے ہیں۔اسی طرح بلوچ انقلابی رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے جب بی ایس او متحدہ کی بنیاد رکھی تو انکی اولین کوشش لٹریچر تھی،اسی طرح جب انہوں نے پہاڑوں کو مسکن بنایا توتب بھی وہ لٹریچر کی اہمیت کو اجاگرکرنے میں زور دیتے رہے۔ خاص طور پر ایک ایسی فضا میں کہ جب عوام کو حقائق اور تحریک کے نظریات،سرگرمیوں اور حاصلات سے آگاہ کرنے والے تمام ذرائع ابلاغ پر بالادست اور رد انقلابی قوتوں کا غلبہ ہو چکا ہو اور یہ ذرائع محض بالادست قوتوں کے مفادات و نظریات کے ترجمان کا فریضہ نبھا رہے ہوں،ایسی کیفیت میں عوامی تحریکوں کو حقائق اور درست نظریات تک عوامی رسائی کیلئے اپنے مخصوص ترجمان اور ذرائع ابلاغ کا اجراء کرنا پڑتا ہے۔ اس حوالے بلوچستان بھی عرصہ دراز سے ایک ایسی صورتحال سے دوچار چلا آرہا تھا،جہاں عمومی ذرائع ابلاغ کی ترجیحات اور معروضی وتاریخی حقائق کی آگاہی کے سوال کے درمیان ٹکراؤ نظر آیا۔ ذرائع ابلاغ کی حقائق کے منافی ترجیحات کے طے کرنے میں حکمران طبقے کا دباؤ اور طاقت کے خوف کے علاوہ مالیاتی و مفاداتی چمک کا بھی کلیدی کردار ہے، جس کے نتیجے میں بلوچستان کی تاریخ، تہذیب و ثقافت اور سیاسی واقتصادی مسائل اور ان کے حل کیلئے جاری تحریکات کے بارے میں دنیا کو زیادہ آگاہی حاصل نہ ہو سکی، اسی لئے ہر دور میں بلوچ قومی حقوق کے حصول کی جدوجہد میں شریک باشعور حلقوں نے اپنے طور پر ایسے ذرائع ابلاغ متعارف کرانے کی کوشش کی جو نہ صرف بلوچ سماج بلکہ دنیا بھر کو بلوچستان کے زمینی حقائق سے آگاہ کر سکیں، تاہم ایسی کوششوں کی راہ میں متعدد رکاوٹیں پیدا کی گئیں اور انہیں جاری رکھنے کیلئے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر یہ سلسلہ ٹوٹا نہیں، جو آج بھی کئی صورتوں میں جاری وساری ہے۔

ذرائع ابلاغ پر بندشوں کا مقصد جہاں سیاسی،معاشی و سماجی داخلی تضادات اور ان کے گرد جاری تحریکی و مخاصمانہ کشمکش کو چھپانا ہے و ہیں محکوموں اور متاثرہ سماجی و عوامی حصوں کے مابین یک جہتی اور اشتراک عمل کی بالیدگی و ظہور کو بھی روکنے کے مقاصد کا حامل ہے، اسی لئے آج جب دنیاکی سامراجی و سرمایہ دارانہ معاشی و سیاسی بنیادوں پر استوار تقریباً تمام ریاستیں شدید اقتصادی و سماجی عدم استحکام سے دوچار ہیں ذرائع ابلاغ پر بندشوں ورکاوٹوں کا معاملہ اب بلا تخصیص ہر ریاست و حکو مت کی خصوصیت بن گیا ہے، خاص طور پر جب سے بحرانوں و داخلی تضادات میں شدت آئی ہے تب سے عوام کو حقائق سے آگاہی کے فریضے کی آزادانہ و غیر جانبدار انہ طور پر ادائیگی نا ممکن حد تک کٹھن اور مشکل ہو چکی ہے، کیونکہ اب حکومتیں قانونی موشگافیوں کے چکر اور تکلف میں نہیں پڑتیں اور ایسے صحافتی اداروں ا ور ان سے وابستہ افراد کو نادیدہ ہاتھوں سے نشانہ بنانا عام ہو چکا ہے جو عوام کو حقائق سے درست آگاہی اور ریاستی پالیسیوں کے پس پردہ مفاداتی مقاصد اور تضادات کو اجاگر کرتے ہیں، اسی نوعیت کی بلکہ اس سے سنگین کیفیت سے بلوچستان دوچار ہے،جہاں بلوچ قومی مسئلے میں پیدا ہونے والی شدت کے نتیجے میں ذرائع ابلاغ یا میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے،یہاں بلوچ عوام اور دنیا کو بلوچستان کے زمینی و معروضی حقائق سے آزادانہ و غیر جانبدار طور پر آگاہی کے راستے میں ریاستی سطح پر مختلف قسم کی رکاوٹیں پیدا کی جاتی رہی ہیں اور سلسلہ ہنوز جاری ہے، بلوچستان میں جس نے بھی اپنی آزادانہ و غیر جانبدارانہ حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کی اْسے زندگی سے ہاتھ دھونے سمیت مصائب کا سامنا کرنا پڑتاہے،جس کے نتیجے میں آج ذرائع ابلاغ پر مختلف قانونی بندشوں کے علاوہ سیلف سنسر شپ نافذ نظر آتی ہے اور میڈیا حکمران و بالادست قوتوں کی پالیسیوں و مفادات کی ترجمانی اور پرو پیگنڈے کا محاذ بن چکا ہے،کیونکہ کوئی اپنی جان جو کھوں میں نہیں ڈالنا چاہتا،لہٰذا تاریکی اور جبر کی اس فضا میں عوام اور دنیا کو حقائق سے آگاہی کے فریضے کی درست ادائیگی آسان نہیں رہا ہے۔ بلوچ دانشوروں،نظر یاتی کارکنوں و صحافیوں نے بندشوں و رکاوٹوں کے باوجود بلوچستان کے زمینی حقائق اور یہاں جاری بنیادی قومی،سیاسی و جمہوری حقوق کی پامالی اور تحریک کے اثرات و نتائج سے آگاہی کیلئے بھر پور کو ششیں کی، یوں سنگر نے 11برس کا کٹھن سفر طے کیا،ادارہ’سنگر“کا کردار سب سے نمایاں تصور کیا جاتا ہے،،یہ صحافتی ادارہ جو ایک پبلی کیشنز و کتابی سلسلہ سے شروع ہوا تھاایک جریدے سے ہوتے ہوئے، آج آن لائن روزنامے کی شکل بھی اختیار کر گیا ہے،اس کے علاوہ سیاسی تجزیوں و تبصروں اور علمی موضوعات پر رقم ہونے والی تحریروں کو کتابی شکل میں بھی شائع کرتا ہے، اور اس طرح سنگر بلوچستان کی صحافتی و ادبی تاریخ میں ایک گرانقدر اضافہ ثابت ہوا ہے، بلوچ سیاسی اور علمی و ادبی حلقوں کے مطابق سنگر کے آزادانہ و غیر جانبدار انہ حقیقت پسند صحافتی و علمی کردار نے ان تمام کوششوں کو ناکام بنایا ہے جو بلوچستان اور بلوچ تحریک کے حوالے سے حقائق کو پوشیدہ رکھنے کی حامل تھیں،اور صرف یہی نہیں بلکہ بلوچ قومی مسلے کے خاتمے کی جاری بلوچ جدوجہد کو سامراج مخالف ترقی پسند سے سیکو لر اور ہر قسم کے نسلی،لسانی مذہبی و فرقہ وارانہ تعصبات وتنگ نظری سے پاک انقلابی فکروعمل پر استوار و قائم رکھنے میں بھی اس صحافتی و عملی ادارے کا کلیدی کردار ہے، اس کے علاوہ اس حقیقت کا بخوبی ادراک رکھتے ہوئے کہ موجودہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا اور سامراج میں جنم لینے والی داخلی ٹوٹ پھوٹ اور اس سے قومی و طبقاتی آزادی اور انقلاب کی تحریکات کیلئے پید ا ہونے والے امکانات و چیلنجوں کو سمجھے بغیر درست حکمت عملی نہیں بنائی جا سکتی،سنگر نے عالمی و علاقائی واقعات و حالات کو بھی ہمیشہ اپنی تحریروں و تجزیوں میں نمایاں حیثیت دی ہے،اور بلوچستان سمیت پورے خطے اور دنیا کو سامراجی قوتوں کے سفاکانہ مفاداتی فکروعمل سے لاحق خطرات اور ان سے نمٹنے کیلئے محکوم اقوام و مظلوم طبقات کے مابین یک جہتی و اشتراک عمل کے تقاضوں سے آگاہی کا فریضہ بھی ادا کیا ہے۔ادارہ سنگر کے کردار نے حقائق سے آگاہی کے علاوہ بلوچ سماج اور تحریک کے رشتوں کو باہم مزید مضبوط و مربوط بھی بنایا ہے اور نوجوانوں، طلباء سیاسی کارکنوں و عوامی حلقوں کی نظریاتی و سیاسی تربیت میں اس ادارے کا کردار ناقابل نظر انداز ہے،جبکہ اپنی آفاقی سائنسی و انقلابی فکری بنیادوں کے باعث سنگر صرف بلوچ قوم ہی نہیں بلکہ خطے و دنیا بھر کی تمام محکوم اقوام اور استحصال زدہ مظلوم طبقات اور ان کی نجات کیلئے سرگرم جہد کاروں کیلئے بھی باعث کشش تصور کیا جاتا ہے،جس کا سبب اس ادارے کی طرف سے دنیا کے کسی بھی مقام پر ہونے والی ظلم و زیادتی کو پوری شدت سے محسوس کرنا اور اس کیخلاف آواز بلند کرنا ہے، اسی وسیع لنظر انقلابی فکری کردار کے باعث سنگر کو بھی بندشوں اور ریاست کی جانب سے پیدا کردہ رکاوٹوں کا آج تک سامنا کرنا پڑا رہا ہے، مگر تمام تر رکاوٹوں کے باوجود یہ ادارہ آج بھی اپنے صحافتی،علمی و نظریاتی کردار کو تند ہی سے ادا کرنے کیلئے مصروف عمل ہے، اور اس کی مزید بہتری اور وسعت کا خواہاں ہے،جس کیلئے ضروری ہے کہ قارئین اور ہر قسم کے جبرو استحصال کے خاتمے کیلئے سرگرم حلقے ادارے کی حوصلہ افزائی اور حمایت و تعاون جاری رکھیں۔

Share This Article
Leave a Comment