بھارت: نفرت انگیزی پھیلانے پر اپوزیشن کا متعدد ٹی وی اینکرز کا بائیکاٹ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے متعدد ٹی وی اینکرز کا بائیکاٹ کا عزم کرتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ نفرت پھیلانے اور وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے شراکت دار ہیں۔

غیرملکی خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق 2014 میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے انسانی حقوق کے کارکنان اور گروپس نے آزادی اظہار اور صحافت کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

حزب اختلاف کے سیاست دانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارت کے کیبل نیوز شوز بی جے پی کے ایجنڈے کے حامی ہیں، جس میں مسلم اور عیسائی اقلیتوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

کانگریس پارٹی کے ترجمان پون کھیرا نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ہم نفرت سے بھرے اس بیانیے کو جائز نہیں بنانا چاہتے جو ہمارے معاشرے کو خراب کر رہا ہے، ہم نفرت کے ان شو رومز میں حصہ نہیں لیں گے۔

کانگریس کا دو درجن سے زیادہ پارٹیوں کے ساتھ اتحاد ہے جو اگلے سال ہونے والے انتخابات سے قبل بی جے پی کے خلاف ایک متحد متبادل فراہم کرنے کی توقع کر رہے ہیں۔

تاہم بی جے پی کی پارٹی کی بڑے پیمانے پر جیت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

حزب اختلاف کے اتحاد نے کہا کہ اس کے ارکان 14 اینکرز کے پروگراموں میں نظر نہیں آئیں گے، جن میں بھارت کی چند مشہور ٹی وی نیوز شخصیات بھی شامل ہیں۔

بھارتی کیبل نیوز مباحثے کے پروگراموں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے جہاں بعض اوقات ایک درجن سے زیادہ تجزیہ کار مباحثے میں حصہ لیتے ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے طویل عرصے سے نیٹ ورکس پر غیر جانب داری کے بنیادی معیارات پر عمل کرنے میں ناکامی اور غیر منصفانہ طور پر اپنی سرگرمیوں میں منفی روش اپنانے کا الزام لگایا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment