بلوچستان کے لاپتہ ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت مہرگل مری کی گمشدگی کو 8 برس پورے ہوگئے ہیں۔
اُن کا ننھا سا نواسہ اپنے چاچو کی بازیابی کے لیے سراپا احتجاج ہے۔
یاد رہے کہ مہرگل مری کو 14 ستمبر 2015 کو پاکستانی سیکورٹی فورسز نے بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیا جو تاحال لاپتہ ہیں۔
لاپتہ مہرگل مری کی بوڑھی والدہ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ میں اپنے بیٹے کی بازیابی کے لئے احتجاج کرتے ہوئے ان کی جدائی کے غم میں شاید علیل ہوئی تھی جنہیں تشویشناک حالت میں ہستپال منتقل کیا گیا جو بعد ازاں اس دنیا سے کوچ کرگئیں، جن کی آخری خواہش تھی کہ اپنے بیٹے کو ایک دفعہ زندہ دیکھ لوں۔
واضع رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگی کے شکار ہرگھرانے کا فرد سیکورٹی فورسز کی جانب سے تمام تر دھمکیوں کے باوجود اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے سراپا احتجاج ہے ۔
بلوچستان میں پاکستانی فورسز کی جانب سے جبری گمشدگیاں کی کارروائیوں میں شدت سے لوگوں میں مزید اضطراب کی کیفیت ہے ۔