اداریہ
دور جدیدجسے مدنیت، ترقی اور روشن خیالی کا دور کہا جاتا ہے لیکن اس دور میں بھی خواتین مردوں کے اس سماج میں ہراساں ہیں۔ ان حالات کو دیکھ کر یہ یقین پختہ ہوجاتا ہے کہ ہم مدنیت اور مادی ترقی میں تو ماضی کے تمام ادوار سے سبقت لے گئے ہیں پر بات اگر تہذیب اور تہذیبی ترقی کی ہو تو صنف رائج کے حرکات و سکنات ہمیں آج بھی دور بربریت میں لے جاتے ہیں۔کہیں ایسا بھی نہیں کہ جنسی ہراسگی کے قوانین نہیں بنے،قوانین تو ہر ملک نے ہی نہیں بلکہ دنیا میں تمام اقوام کی تنظیم(اقوام متحدہ) نے بھی سول رائٹس ایکٹ کے تحت 1664ء میں جنسی ہراسگی بالخصوص خواتین کو استحصال کا شکار دیکھ کر عمل میں لایا۔یعنی 5سال قبل اقوام متحدہ نے قانون بنایا پر ہم دیکھتے ہیں کہ اس قانون کے بننے کے بعد بھی ایسے غیر انسانی اعمال مسلسل تیزی سے وقوع پذیر ہورہے ہیں۔آج کے اس ترقی یافتہ دور میں جہاں خواتین چار دیواری سے باہر قدم رکھ کر انسانی ترقی کے ہر عمل میں مردوں کے مساوی آگئی ہے لیکن اس کے باوجود بھی خواتین مردانہ سماج میں عہد بربریت کے اس خوف کا شکارہے جس میں انہیں (خواتین) کو زیر کرنا سب سے آسان ہدف تصور کیا جاتا تھا۔ یہ خوف نہ صرف ترقی پذیر ممالک میں دیکھنے کو ملتی ہے بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہم عہد بربریت اور عہد وحشت کے مناظردیکھ سکتے ہیں۔
ہم اکثر یہ سنتے یا پڑھتے تھے کہ مغرب کے کسی تعلیمی ادارے میں ایسا واقعہ رونماء ہوگیا یا ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، البتہ کبھی کبھار ہی کسی ترقی پذیر ملک کا نام بھی خبروں کی زینت بن جاتی تھی۔اور بلوچستان جیسے خطے میں حساس جذبات رکھنے والی قوم کے کسی ادارے میں ایسے واقعہ کا وقوع پذیر ہونا ذہن پہ بجلی گرانے کے مترادف ہے۔جس کے سبب نہ صرف ذہن بلکہ جسم کے دیگر اعضاء بھی شل ہوجاتے ہیں۔
ابھی حال ہی میں طالبات کو اچھے نمبراور گریڈدلانے کے حوالے سے مغربی افریقہ کے یونیورسٹیوں میں طالبات کو جنسی ہراسگی کے واقعات منظر عام پہ آئیں۔جہاں زیر تعلیم طالبات نے اس غیر انسانی عمل کو افشاں کیا۔اس کے بعد تحقیق کیا گیا تو اس قسم کے بہت سارے کیسز سامنے آئیں۔
مغربی افریقہ کا شکار ترقی پذیر خطوں میں ہوتا ہے اور ایک ایسے خطے میں اس سطح کے واقعات انسان کو ششدر کرتے ہیں۔ اسی لیے بلوچستان یونیورسٹی میں رونماء ہونے والا جنسی ہراسگی کا واقعہ منظر عام پہ آیا تو پہلے پہل یقین ہی نہیں ہورہا تھاکہ اس خطے میں جہاں قبائلی رسم و رواج مضبوط خطوط پہ استوار ہیں یہاں بھی ایسے واقعات رونماء ہوسکتے ہیں۔
بلوچستان یونیورسٹی کا یہ واقعہ جس میں بعض جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے اس گھناؤنے عمل میں ملوث ہونے والوں میں یونیورسٹی انتظامیہ سمیت عسکری اداروں کا نام بھی سامنے آرہا ہے۔اور اس امر سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا اس کی بنیادی وجہ بلوچ قومی آزادی کا ایک ایسے نہج پہ پہنچنا جہاں ریاست اپنے گزشتہ تمام کاؤنٹر پالیسیوں کو استعمال کرنے کے باوجود اس تحریک کو ختم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگیاہے۔ اس کے علاوہ آج پشتون قوم بھی اس غیر فطری ریاست کے ظلم وجبر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کرسامنے آرہی ہے۔جس میں زیادہ تر تعداد تعلیم یافتہ افراد کا ہے جن میں خواتین کی ایک حوصلہ افزاء تعداد شامل ہے اور ایک مختصر مدت میں یہ تحریک اس خطے کے محکوم افراد میں کافی مقبولیت بھی حاصل کرچکا ہے۔ اور اگر بلوچستان یونیورسٹی میں حصول علم میں مگن طلباء کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو ان میں اکثریت بلوچ اور پشتون نظر آئینگے اور ہاسٹلز میں تو صد فیصد ہی انہی دو اقوام کے طلباء رہائش پذیر ہیں۔ اس لیے ایسے ہتھکنڈوں سے انہیں ہراساں کرنا انتہائی آسان ہے۔
اس واقعہ کے خلاف آج طلباء تنظیمیں متحرک تو ہیں اب دیکھتے ہیں کہ انہیں کتنی کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں ویسے تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس ریاست نے ہر ایک موقع پہ دروغ گوئی کی رسم اپنائی ہے وہ چاہے اس خطے کے باسیوں کے حوالے سے ہوں یا عالمی نوعیت کے مسائل۔