پاکستان کے اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انسانی حقوق کی معروف کارکن اور وکیل ایمان زینب مزاری کی بغاوت ودہشت گردی کے مقدمے میں ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی، جس کے بعد انہیں زنانہ تھانے سے رہا کردیا گیا۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے ایمان مزاری کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی، ایمان مزاری کی والدہ شیریں مزاری، وکلا زینب جنجوعہ اور قیصر امام بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے ایمان مزاری کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 10 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم سنایا۔
بعد ازاں ایمان زینب مزاری کو اسلام آباد کے ویمن پولیس اسٹیشن سے رہا کردیا گیا اور وہ اپنے وکلا کے ہمراہ گھر روانہ ہو گئیں۔