انسانی حقوق کی کارکن اور مظلوم وجبری گمشدگیوں کے متاثرین کی وکیل ایمان مزاری نے آج بروزپیر کوپاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں پیشی کے موقع پرآج سے بھوک ہڑتال شروع کرنیکا اعلان کیا ہے ۔
گذشتہ روز مذکورہ عدالت نے پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں ان کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیاتھا۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر انہوں نے اسد طور ان سنسرڈسے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس نظام کے خلاف آج سے میرا بھوک ہڑتال شروع ہوچکا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ریمانڈ لیکر مجھے ایک بھی سوال نہیں پوچھا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میری کتابیں چوری کی گئی ہیںجن میں میری نظموں کی کتابیں بھی تھیں ۔
واضع رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترنول میں جمعے کی شب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے جلسے میں شرکت اور تقریر کے بعد ایمان مزاری کے خلاف دو مقدمات درج کیے گئے اور اسلام آباد پولیس نے انھیں اتوار کی صبح ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔ پولیس نے ایمان مزاری کے ساتھ ساتھ سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو بھی گرفتارکیا تھا۔
ان پر پولیس کی سیلف پروٹیکشن شیلڈ کی چوری اورریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کاالزام لگایا گیا ہے ۔
ایمان مزاری کے خلاف تھانہ ترنول نے ریاستی اداروں کے خلاف بیان دینے اور لوگوں کو اداروں کے خلاف اکسانے کا مقدمہ درج کیا جبکہ سی ٹی ڈی کی جانب سے انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے منظور پشتین سمیت پی ٹی ایم کی دیگر قیادت کے ساتھ مل کر لوگوں کو بغاوت، خانہ جنگی، سول نافرمانی اور مسلح جدوجہد کی ترغیب دی۔