پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں انسانی حقوق کی کارکن اور جبری گمشدگیوں کے کئی متاثرین کی وکیل ایمان مزاری کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے۔
اسلام آباد کے علاقے ترنول میں جمعے کی شب پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے جلسے میں شرکت اور تقریر کے بعد ایمان مزاری کے خلاف دو مقدمات درج کیے گئے اور اسلام آباد پولیس نے انھیں اتوار کی صبح ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔ پولیس نے ایمان مزاری کے ساتھ ساتھ سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی گرفتاری کی بھی تصدیق کی ہے۔
ایمان مزاری کے خلاف تھانہ ترنول نے ریاستی اداروں کے خلاف بیان دینے اور لوگوں کو اداروں کے خلاف اکسانے کا مقدمہ درج کیا جبکہ سی ٹی ڈی کی جانب سے انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے منظور پشتین سمیت پی ٹی ایم کی دیگر قیادت کے ساتھ مل کر لوگوں کو بغاوت، خانہ جنگی، سول نافرمانی اور مسلح جدوجہد کی ترغیب دی۔
اطلاعات کے مطابق ایمان مزاری کو کل تک تھانہ سی ٹی ڈی کی طرف سے درج مقدمے میں تھانہ وومن میں رکھا جائے گا۔
ایمان مزاری اورعلی وزیر کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کے ایک اور مقدمے کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کی گئیں جس پر عدالت نے دونوں کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
بعد ازاں اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ان کیسز میں فیصلہ محفوظ کر لیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق دونوں کو ایک روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے جب کہ پیر کو انہیں متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق دونوں ملزمان اسلام آباد پولیس کو تفتیش کے لیے مطلوب تھے۔
ایمان مزاری اور عالی وزیر کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ایمان مزاری دہشت گردی کے مقدمے میں ایک دن یعنی پیر تھانہ ویمن پولیس میں رہیں گی۔
عدالت نے علی وزیر کا دہشت گردی کے مقدمے میں ایک دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ دوسرے مقدمے میں بغیر اجازت جلسہ کرنے اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں علی وزیر کا دو دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا۔
اسی طرح ایمان مزاری کو بھی بغیر اجازت جلسہ کرنے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ان کا جوڈیشل ریمانڈ بھی منظور کیا گیا۔