تربت میں مذہبی گروہ بیانات ذریعے پر تشدد ماحول بنارہی ہے، بی ایس اوایکس فورم

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بی ایس او ایکس سینٹرل کیڈر فورم کے ترجمان نے ضلع کیچ میں مذہبی منافرت پر مبنی ایک پرتشدد ماحول کے لیے علما کے نام سے کی جانے والی چند افراد کی کوششوں کو ایک بردبار اور کشادہ زہنیت پر مبنی سماج اور ہمہ گیر سیاسی ماحول کے لیے زہر قاتل قرار دیتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور عام بلوچ مخلوق کو ان کے خلاف یکمشت ہونے کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ضلع کیچ میں طالب علم عبدالرؤف کی توہین مذہب کے نام پر ناحق قتل کے بعد وہ مذہبی گروہ جو اس قتل کا مرکزی کردار ہے روز بروز اپنے بیانات میں پر تشدد ماحول بنانے کی دانستہ کوشش کررہی ہے جس کا آخری نتیجہ سیکولر بلوچ سماج کو تنگ نظری، فرقہ واریت، مذہبی کشت و خون اور پرشت و پروش پر لے جائے گی جہاں اب تک تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود ہر سیاسی جماعت کا کارکن اور قیادت ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاقات اور برداشت لیے اپنی کاز کو آگے بڑھانے کی جدوجہد کررہی ہے۔

ہماری بے احتیاطی سے وہاں ایک تاریک، تنگ نظر اور عدم برداشت پر مبنی ایک ایسا غیرسنجیدہ فضا جنم لے گا جس میں مذہب کے نام پر بھائی کو اپنے بھائی کے خلاف ہتھیار بند کیا جائے گا اس بیانیہ کا اظہار اس مخصوص علما کمیٹی کے حال ہی میں کیچ کے عوام کے نام جاری تنبیہی بیان سے واضح ہے جس میں عام لوگوں کے قتل کو مذہبی منافرت کے نام پر مستقبل میں روا رکھنے کا اظہار صاف طور پر موجود ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے بھی اسی مخصوص کمیٹی کا بیانیہ سامنے آیا تھا جس میں اپنی دہشت کا اظہار اس طرح کھل کر نہیں کیا گیا لیکن اب عبدالرؤف کے ناحق قتل کے خلاف عوام کے ردعمل کو اپنی دہشت کے زور پر دبانے کے لیے پورے کیچ کے عوام کو دہمکی دے کر اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کی گئی ہے اگر اس کے خلاف ایک متحد ردعمل نہیں دکھایا گیا تو یہ شدت پسند گروہ اپنے مزعوم مقاصد کی خاطر مذہب کا نام لے کر بڑی تباہی کے ساتھ سامنے آئے گا پھر اس کے ہدف میں ہر سیکولر سوچ کے مالک سیاسی کارکن، ہر سنجیدہ فکر سماجی ورکر اور ہر وہ عام شھری آئیں گے جو اس منفی سوچ کے خلاف اپنا الگ بیانیہ بنانے کی کوشش کریں۔

انہوں نے کہاکہ کیچ کی قوم پرست سیاست اور کشادہ زہنیت پر مبنی سماج کے خلاف مذہبی منافرت اور پر تشدد سوچ پر مبنی کوششیں اس سے پہلے بھی کی جاچکی ہیں لیکن اس کوشش میں شدت پہلی دفعہ نظر آیا ہے طالب علم عبدالرؤف کا ناحق قتل اس شدت پسندی کا واضح بنیاد ہے جسے اب کھل کر آگے بڑھایا جارہا ہے اس لیے بی ایس او ایکس سینٹرل کیڈر فورم اس اہم معاملہ پر تمام سیاسی قیادت کو اختلاف بالا رکھ کر سنجیدگی کے ساتھ متحد ہو کر اس پر حکمت عملی طے کرنے کی اپیل کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ قوم پرست سیاست اور کیچ کی فکر انگیز کشادہ رو سماج کے خلاف کسی شدت پسند گروہ کو مذہب کے نام پر منافرت پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی۔

Share This Article
Leave a Comment