بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5135 دن ہوگئے۔
بی ایس او پجار کے سینیئر وائس چیئرمین بابل ملک سی سی ممبر سلمان شاہ جہانزیب ممبر نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی ۔
وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے کہا کہ جب کسی مقبوضہ خطے میں فوجی چائونیاں بھڑی تعداد میں تعمیر ہو رہی ہوں قابض کی سرحدی فوجیں بارڈر کو چھوڑ کر مقبوضہ خطے کے کونے کونے میں پھیل جائیں ہر کسی کو روک کر ملک دشمن قرار دیتے ہوئے غداری کا الزام لگا کر ان کے ساتھ ملزموں جیسا سلوک کیا جائے غلام قوم کی فرزندوں کی لاشیں بچھائی جائیں جبری اغوا ٹارگٹ کلنگ کا انہیں نشانہ بنایا جائے حاکم محکوم دونوں کے لئے بے چینی کا ماحول ہو آج بلوچستان میں بھی یہ سب کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ تنظیم نے شروع ہی سے ایسی سازشوں و سازشیوں کو بے نقاب کر کے حقائق کو سامنےلارہی ہے اسی مکار دھوکہ باز قوم دشمن قوتیں بلوچ معاشرے میں اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے تنظیم کے خلاف معروف عمل ہے۔ حقیقی پرامن جہد کاروں کو بدنام اور ان کی قربانیوں اور جدوجہد کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ پرامن جدجہد کے دوران انیوالے مشکلات اور تکلیفات کو برداشت کرنے کی آگاہی کو اپنا مقصد بنایا بدمعاشوں منشیات فروشوں کی جی حضوری کرنے کے بجائے قوم پرستی وطن دوستی کا موحول بنانے کی پروگرام کو اگے بڑھا کر خواتین کو گھروں میں قید کرنے کے بجائے انہیں انکی حیثیت معاشرے میں انکے قردار کے بارے میں اگاہی دی انہیں پرامن جدجہد میں مردوں کے برابر صف اول میں لاکھڑا کر دیا آج بلوچ دشمنوں کی نیندیں حرام کیں جس سے حواس باختہ ہوکر تنظیم کے خلاف ایک نفسیاتی جنگ کا آغاز کردیا گیا اسی لئے تنظیم کے مخالفین روز بروز تنظیم کے خلاف متحرک ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج پاکستان مختلف طریقوں سے ان مشکلات کو پرامن جدجہد کی کارستانی قرار دے کر عوام کو پر سے مایوس کرکے غلامی و خاموشی کی زندگی میں لے جانا چاہتے ہیں۔ جس سے چند نادان اپنی غلامی و رسوائی کو بھول کر صرف تشدد سہنے کے ڈر سے قربانیوں کو غلط حکمت عملی قرار دے کر نادانیاں کرتے نظر آتے ہیں۔