بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5133 دن ہوگئے۔
کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل قاضی امداد سلطان یحی نیک محمد اور بلوچ وطن پارٹی کے مرکزی کنوینر حیدر رئیسانی عطااللہ شاہ جی اور دیگر ساتھیوں نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچ قومی تحریک کیا ہے اس کی ابتدا کیسے ہوئی اب یہ بات اتنی ضروری نہیں کیونکہ شہدا کی قربانیوں کی وجہ سے اب منزل دن بدن قریب ہوتی جا رہی ہے دنیا میں جہاں جہاں مظلوم اپنی حق کی آواز بلند کرتا ہے سامراجی قوت اسکی آواز کو دبھانے کے لئے مختلف قسم کے حربے استعمال کرتا ہے۔ اب بلوچ پرامن جدجہد کو پاکستان کی فوج روز مسخ شدہ لاشیں پھینکتی ہے مگر اس کے رد عمل میں بلوچ نوجوان بھوڑے بچے خواتین میں شعور پیدا ہو رہا ہے اس میں مزید تیزی آ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات یہاں واضع کرتی ہے کہ بلوچ قوم کے لئے جنگ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مگر بلوچ قوم کو اپنی سرزمین کی بدولت مختلف طاقتوں کا سامنا رہا ہے۔ مگر بلوچ قوم نے ہمیشہ موت کو غلامی کی ذندگی پر ترجیع دی ہے اس کی مشال اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہزاروں نوجوان بھوڑے بچے خواتین پاکستان کی اذیت گاہوں میں غیر انسانی اذیت برداشت کر رہے ہیں۔ اور جب سے پاکستان نے بلوچستان کو اپنا مقبوضہ علاقہ بنایا ہے اب تک لاکھوں بلوچ کے خون سے پاکستان کے خفیہ اداروں کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں مگر ناکام ریاست پاکستان میں بلوچوں کا بہتا ہوا خون اس سرزمین کو ضرور سیراب کرے گی۔
ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچ قوم اس نازک اور اہم موڑ پر اپنی آپسی چھوٹی چھوٹی اختلافات کو ختم کرکے ایک جان بننا ہوگا یہی وقت کی ضرورت ہے اور یہی خوش آیند ہے کہ بلوچ نوجوان نسل اس بات کو مدنظر رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن ریاستی وفاداریاں بلوچ قومی تحریک میں خلل پیدا کررہا ہے۔ ان کو راستے سے ہٹانا بلوچ قوم کی اولین ترجیع ہونی چاہئے کیونکہ استین کا سامپ دشمن سے ذیادہ خطرناک ہوتا ہے دوسری طرف پاکستانی الیکشن ہونے کی صورت میں دنیا کے سامنے بلوچ کی سنگین صورت حال مزید واضع ہو جائے گی کیونکہ پاکسانی خفیہ ادارے قومی غداروں سے مل کر لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔