انڈیا میں فوجی ڈرون تیارکرنے کیلئے چینی پرزہ جات کے استعمال کی ممانعت

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بھارت نے سیکیورٹی خدشات کے سبب مقامی سطح پر فوجی ڈرون تیار کرنے والوں کو چینی پرزہ جات کے استعمال سے روک دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ اقدام جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ممالک چین اور بھارت کے درمیان تناؤ کے پیش نظر سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔

لیکن چونکہ بھارتی صنعت فوج کی ضروریات کو پورا کرتی نظر آرہی ہے اس لیے دفاعی اور صنعت ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت کے سیکیورٹی لیڈر اس بات سے پریشان ہیں کہ ڈرونز کمیونیکیشن فنکشنز، کیمروں، ریڈیو ٹرانسمیشن اور آپریٹنگ سافٹ ویئر میں چینی ساختہ پرزوں کے استعمال سے خفیہ اداروں کے اجلاس اور ملاقاتوں کی معلومات لیک ہونے یا اس کی سیکیورٹی پر سمجھوتے کا خدشہ ہے۔

بھارت کا نقطہ نظر 2020 سے نگرانی والے ڈرونز پر مرحلہ وار درآمدی پابندیوں کی توثیق کرتی ہے اور اس کا نفاذ فوجی ٹینڈرز کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔

ڈرون ٹینڈرز پر بات کرنے کے لیے فروری اور مارچ میں ہونے والے دو اجلاسوں میں بھارتی فوجی حکام نے ممکنہ بولی دہندگان کو بتایا تھا کہ جن ممالک کی زمینی سرحدیں بھارت کے ساتھ ملتی ہیں، ان ممالک کے آلات یا ذیلی اجزا سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر قابل قبول نہیں ہوں گے۔

ایک ٹینڈر دستاویز میں کہا گیا تھا کہ اس طرح کے ذیلی نظاموں میں سیکیورٹی خامیاں ہیں جو اہم فوجی ڈیٹا کی سیکیورٹی پر اثرانداز ہو سکتی ہیں اور ٹینڈر بھرنے والوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ بتائیں کہ کس ملک کے اجزا یا آلات کا استعمال کریں گے۔

Share This Article
Leave a Comment