مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم کرنے کے معاملے پرپاکستان کے سینیٹ اجلاس میں نیشنل پارٹی ،اے این پی، جمعیت اور پشونخوامیپ کے سینیٹرز نے احتجاجاً واک آئوٹ کیا۔
نیشنل پارٹی کے سینیٹر طاہر بزنجو کے مطابق گزشتہ روز مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے بعد پاکستان بھر کی 7ویں ڈیجیٹل مردم شماری سے متعلق نوٹیفکیشن کے خلاف نیشنل پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی ،جمعیت علماءاسلام اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سینیٹرز کی جانب سے ایوان سے واک آؤٹ کیا گیا اور بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایاگیا کہ 12مئی کے مردم شماری کے نوٹیفکیشن کے بعد آفیشل 7ملین آبادی کو کاٹا گیاہے جو سراسر ناانصافی ہے ۔
سینیٹ اجلاس میں قائد ایوان اور وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں ڈیجیٹل مردم شماری کی منظوری کا فیصلہ اتفاق رائے سے کیا گیا۔ ڈیجیٹل مردم شماری میں بلند ترین شرح آبادی میں اضافہ بلوچستان میں 3.2 فیصد ہے۔
اتوار کو سینیٹ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایوان کی پارلیمانی روایات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ، جے یو آئی(ف)کے پارلیمانی لیڈر اجلاس میں موجود تھے۔ تمام ممبران کے اتفاق رائے سے ڈیجیٹل مردم شماری کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا تمام صوبوں کو تفصیلات بھجوا دی گئی ہیں۔اسی عرصہ کے دوران اوسطا شرح آبادی 2.55 فیصد ہے، 2017 میں 2.4 فیصد تھی۔ بلند ترین شرح آبادی میں اضافہ بلوچستان 3.2 فیصد ہے۔ ہمیں حقیقت پسندی سے سوچنا چاہئے۔ ڈیجیٹل مردم شماری کا فیصلہ سابق دور حکومت میں مشترکہ مفادات کونسل نے کیا۔ اس پر 34 ارب روپے خرچ ہوئے۔
قبل ازیں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے جے یو آئی(ف)کے سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی میں کمی ہوئی ، اسمبلی تحلیل کرنے سے چند روز قبل اسی طرح کے اعلان سے بلوچستان میں احساس محرومی بڑھے گا۔
سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہوں، یہ کہا جا رہا ہے کہ انتخابات تاخیر کا شکار ہوں گے۔الیکشن کمیشن کو بتانا چاہئے کہ حلقہ بندیوں میں کتنا وقت لگے گا۔ 90 دن میں حلقہ بندیاں کرکے بروقت انتخابات کرائے جائیں۔
اس موقع پر جے یو آئی (ف)کے ارکان نے مردم شماری کے معاملے پر ایوان سے ٹوکن واک آؤٹ کیا۔
جبکہ پاکستان کے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم ظاہر نہیں کی گئی، مردم شماری حقیقی اعداد و شمار پر مشتمل ہے وفاقی وزیر اعظم نذیر نے کہا کہ مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی کم ظاہر نہیں کی گئی، سب سے زیادہ تیری سے آبادی میں اضافہ بلوچستان میں ہوا، بلوچستان میں آبادی کی شرح میں 3.2 فیصد اضافہ ہوا ہے،۔
سی سی آئی اجلاس میں کسی نے اعدادوشمار پر اعتراض نہیں کیا۔
وزیر قانون نے کہا کہ کامران مرتضی ہمارے لیے قابل احترام ہیں، منا کر لائیں گے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڈ بلوچستان کے اراکین کو منانے کے لیے چلے گئے۔