بلوچستان میں جعلی کمپنیاں سرگرم، کروڑوں کے سرکاری فنڈز ہڑپنے کا انکشاف

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان میں پاکستان کی دیگر صوبوں کی جعلی کمپنیوں کی سرگرمی و فنڈز ہڑپ کرکے فرار ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔

اطلاعات ہیں کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب، سندھ اورخیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے متعدد جعل ساز کمپنیاں بلوچستان کے مختلف ترقیاتی فنڈز کو ہڑپ رہے ہیں لیکن محتسب ادارہ ان کمپنیوں کو روکنے اورلوٹے گئے فنڈ زکی ریکوری میں مکمل طور پر ناکام نظر آرہا ہے ۔

سنگر نیوز کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایسی کمپنیوں کیخلاف بلوچستان محتسب اور وفاقی محتسب کے اداروں سمیت دیگر تحقیقاتی اداروں اور چھان بین و انصاف فراہم کرنے والے محکموں میں نیشنل کمپنیوں کے نام سے فراڈ کر نیوالوں کیخلاف متعدد درخواستوں پر تحقیقات اور چھان بین کا عمل جاری ہے۔

اطلاعات ہیںکہ کوئٹہ میں واٹر مینجمنٹ ادارے کو رواں سال مئی میں لاہور کی ایک فراڈ اور جعلی کمپنی سند ر ٹریڈنگ کمپنی جس نے سویڈن کی معروف کمپنی سیٹ لیب سویڈن کے نام سے جعلی اسٹیکر لگا کر غیر معیاری سامان بلوچستان کے ادارے میں کروڑوں روپے کے عوض فراہم کیا۔

اس کمپنی کیخلاف بلوچستان کے شہری محمد ذیشان کی جانب سے محتسب بلوچستان کے دفتر میں شکایت موصول ہوئی جس میں محکمہ زراعت بلوچستان میں جعل سازی غیر معیاری آلات کی فراہمی کے علاوہ پٹ فیڈر کینال منصوبے میں جعلی مختلف آلات اور سیٹ لیب ٹوٹل اسٹیشن کی فراہمی میں کروڑورو پے فراڈ کا الزام عائد کیا گیا جس پر محتسب ادارے بلوچستان کی جانب سے سندر ٹریڈنگ کمپنی کے ایم ایس شوکت علی ندیم و دیگر کو نوٹس جاری کر کے وضاحت طلب کی گئی جس پر بلوچستان میں کروڑوں روپے کا فراڈ کرنیوالے سندر ٹریڈنگ کمپنی کے جعل ساز آج تک اپنی صفائی میں کوئی جواب داخل نہ کر سکے۔

بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان کمپنیوں کو پاکستانی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر براجمان افسران اون کرتے ہیں اسی لئے بلوچستان کے احتسابی ادارے کا ان پر گھیرا تنگ کرنا ناممکن ہے ۔

بلوچستان کے عوامی وسماجی حلقوں نے بلوچستان کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بلوچستان کے غریب عوام کے فنڈ ز کو ہڑپ کر نیوالے والے اوربلوچستان کے عوام کو اپنی جعل سازی میں پھنسا کر کروڑوں روپے ہڑپ کر نیوالے ایسے جعل سازوں کیخلاف سخت کارروائی ہونی چاہے اور بلوچستان حکومت سرکاری طور پر پنجاب کی حکومت سے ایسے افراد کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزادے۔ تاکہ باہر سے بلوچستان میں آکر یہاں کے مقامی افراد کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور سرکاری فنڈز ہڑپ کرکے یہاں سے رفو چکر ہونیوالوں کا محاسبہ کیاجاسکے ۔

Share This Article
Leave a Comment