بھارت کی درجن سے زائد اپوزیشن جماعتوں نے اگلے سال ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارتی (بی جے پی) کے خلاف مشترکہ پلیٹ فارم سے حصہ لینے کے لیے ’انڈیا‘ کے نام سے نیا اتحاد تشکیل دے دیا ہے۔
خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ اعلان بھارت کے جنوبی شہر بنگلور میں 26 جماعتوں کے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر کیا گیا ہے۔
بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کے صدر ملکاارجن کھڑگے نے کہا کہ انڈیا ’انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلیوسیو الائنس‘ کا مخفف ہے۔
ویب سائٹ کوئنٹ کی رپورٹ کے مطابق اتحاد میں شامل اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جہاں ملکا ارجن کھڑگے نے کہا کہ ’مل کر ہم ملک کے کئی مسائل حل کریں گے‘۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد کی 11 رکنی رابطہ کمیٹی جلد ہی تشکیل دی جائے گی۔
کانگریس کے صدر کا کہنا تھا کہ اگلا اجلاس ممبئی میں ہوگا جہاں 11 رکنی کمیٹی کا انتخاب ہوگا اور ممبئی میں ہونے والے اس اجلاس میں پینل اور اپوزیشن رہنما اگلے سال کے انتخابات کے لیے نشستوں کی تقسیم پر تبادلہ خیال کریں گے اور اتفاق رائے کیا جائے گا۔
کانگریس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری ویڈیو میں وہ اس اتحاد کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
ملکاارجن کھڑگے کا کہنا تھا کہ ہم یہاں اپنی جمہوریت اور آئین بچانے کے لیے جمع ہوئے ہیں، یہ بے روزگاری، مہنگائی اور ملک کے اہم مسائل سے نمتنے کے لیے مشترکہ جدوجہد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس جنگ میں کامیاب ہوں گے۔
اس موقع پر بھارتی اپوزیشن کے مرکزی رہنما راہول گاندھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ بی جے پی اور اس کے نظریات کے خلاف ہے، یہ جنگ بھارت اور نریندر مودی کے درمیان ہے۔
راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ یہ جنگ دو سیاسی جماعتوں کے درمیان نہیں ہے بلکہ بھارت کے تشخص کے دفاع کے لیے ہے، اگر آپ بھارت کی تاریخ دیکھیں گے تو آپ کو بھارت کے تشخص کے لیے لڑتے ہوئے کوئی نظر نہیں آئے گا، یہ بھارت کے اقدار اور نریندر مودی کے درمیان جنگ ہے۔