امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جلد بازی میں افغانستان سے امریکی انخلاء کے سنگین نتائج پر غور ہی نہیں کیا گیا۔ اس رپورٹ میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء پر سخت تنقید بھی کی گئی۔
اس رپورٹ میں موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2021 میں افواج کو افغانستان سے نکالنے کے ناکافی اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ کی اس رپورٹ کے مطابق جب اگست 2021 میں امریکی افواج افغانستان سے نکل رہی تھیں تو انخلاء کی اس کارروائی سے پہلے اور بعد میں کئی غلطیاں سرزد ہوئیں۔
گزشتہ روز جمعے کو شائع کی جانے والی اس رپورٹ میں مزید کہا گیاکہ دونوں صدور کے افغانستان میں فوجی مشن ختم کرنے کے فیصلے کے افغان حکومت کی سلامتی کے لیے سنگین نتائج مرتب ہوئے ہیں۔‘‘
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے کہنے پرافغانستان آفٹر ریویو ایکشن نامی یہ رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔
اس رپورٹ کے شائع ہونے سے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے لیے بھی کافی ساری مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اور بائیڈن، دونوں صدور کی انتظامیہ میں شامل تجربہ کار افراد نے اس امر پر کم ہی غور کیا تھا کہ عجلت میں افواج کو افغانستان نکالنے کے کتنے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
85 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کے ابھی صرف 24 ہی صفحات عام کیے گیے ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے اس دوران واضح فیصلہ سازی کا فقدان دکھائی دیا اور بحران سے نمٹنے کے لیے مناسب انتظامات بھی نہیں کیے گئے۔
اس رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ امریکہ طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے اور بحرانی حالات سے نمٹنے کی اپنی ٹاسک فورس کو بڑھانے میں بھی ناکام رہا۔ اس کے علاوہ تمام تر حالات کا جائزہ لینے اور ہنگامی یا فوری جواب دینے کے لیے کسی تجربہ کار سفارت کار کی تعیناتی بھی نہیں کر پایا، جو ایک اور بڑی ناکامی ہے۔